امریکی ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی ڈیموکریٹک کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے اس قرارداد کو کثرتِ رائے سے مسترد کردیا ہے جس کے تحت صدر پر کیوبا کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی سے قبل کانگریس سے منظوری لینا لازم قرار پاتی۔
گزشتہ روز ہونے والی اس انتہائی اہم اور اعصاب شکن رائے شماری کے دوران ریپبلکن ارکان نے اپنی صفیں درست رکھیں اور 47 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے اس رکاوٹ کو دور کردیا، جس کے بعد اب صدر ٹرمپ کو کیوبا کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے مکمل سیاسی و قانونی آزادی حاصل ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
ایوان میں بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین نے خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے کیوبا کی سمندری ناکہ بندی اور ایندھن کی ترسیل روکنے کے اقدامات پہلے ہی عملاً ایک جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی دوسرا ملک امریکا کے خلاف ایسے اقدامات کرتا تو اسے براہِ راست حملہ تصور کیا جاتا، تاہم ریپبلکن سینیٹر رک اسکاٹ نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ جب تک باقاعدہ فوج میدان میں نہیں اتاری جاتی، تب تک ایسی کسی قرارداد کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیل کی فروخت پر پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیوبا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز
عالمی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ پہلے ہی علی الاعلان کہہ چکے ہیں کہ ایران اور وینزویلا کے بعد اب ان کی اگلی منزل کیوبا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ جزیرہ نما ملک کی حکومت اندرونی طور پر کھوکھلی ہو چکی ہے اور اسے گرانے کے لیے امریکی مداخلت ناگزیر ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ اور وینزویلا میں صدر نکولس مدورو کی گرفتاری جیسے واقعات نے پہلے ہی دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، اور اب سینیٹ کے اس فیصلے نے کیوبا پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کردیا ہے۔














