ڈھاکہ میں شدت پسند تنظیم کے 4 مبینہ ارکان گرفتار، اسلحہ اور ڈرون برآمد

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ نے مختلف کارروائیوں میں شدت پسند تنظیم کے 4 مبینہ سرگرم ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ گرفتاریاں کمرنگیرچر اور کیرانی گنج کے علاقوں میں چھاپوں کے دوران عمل میں آئیں۔

گرفتار افراد کی شناخت 29 سالہ محمد عمران چوہدری، 25 سالہ محمد مستقیم چوہدری، 28 سالہ ریپن حسین شیخ اور25 سالہ ابو بکر کے ناموں سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے سابق چیف جسٹس کی رہائی کھٹائی میں کیوں پڑ گئی؟

ڈیٹیکٹو برانچ رمنا ڈویژن کے حکام کے مطابق منگل کی علی الصبح تقریباً 3 بج کر 5 منٹ پر ایک خصوصی ٹیم نے کمرنگیرچر کے علاقے کوئلہ گھاٹ میں تارا مسجد کے قریب ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے عمران چوہدری کو حراست میں لیا گیا۔

ابتدائی تفتیش میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے بعد ازاں اس کے چھوٹے بھائی مستقیم چوہدری کو کیرانی گنج کے جیانگر علاقے سے گرفتار کیا۔

مزید پوچھ گچھ اور انٹیلیجنس کی تصدیق کے بعد ریپن حسین شیخ اور ابو بکر کو بھی کمرنگیرچر کے رسول پور علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔

کارروائی کے دوران پولیس نے ایک غیر ملکی ساختہ پستول، ایک ون شوٹر بندوق، 14 گولیاں، 3 خالی خول، متعدد اسمارٹ فونز، ڈی وی آر، ایک ڈرون، ڈرون کے پرزہ جات، ملٹی فنکشن چارجر، میٹل ڈیٹیکٹر، لیپ ٹاپ، مختلف الیکٹرونک آلات، بیگز اور شدت پسند نظریات سے متعلق کئی کتب برآمد کیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے ابتدائی پوچھ گچھ میں شدت پسند گروہ کا سرگرم رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں غیرملکی اسلحہ اور منشیات برآمد

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

دہشتگردی، شدت پسندی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف انٹیلیجنس نگرانی اور خصوصی آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp