ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ نے مختلف کارروائیوں میں شدت پسند تنظیم کے 4 مبینہ سرگرم ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ گرفتاریاں کمرنگیرچر اور کیرانی گنج کے علاقوں میں چھاپوں کے دوران عمل میں آئیں۔
گرفتار افراد کی شناخت 29 سالہ محمد عمران چوہدری، 25 سالہ محمد مستقیم چوہدری، 28 سالہ ریپن حسین شیخ اور25 سالہ ابو بکر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے سابق چیف جسٹس کی رہائی کھٹائی میں کیوں پڑ گئی؟
ڈیٹیکٹو برانچ رمنا ڈویژن کے حکام کے مطابق منگل کی علی الصبح تقریباً 3 بج کر 5 منٹ پر ایک خصوصی ٹیم نے کمرنگیرچر کے علاقے کوئلہ گھاٹ میں تارا مسجد کے قریب ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے عمران چوہدری کو حراست میں لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے بعد ازاں اس کے چھوٹے بھائی مستقیم چوہدری کو کیرانی گنج کے جیانگر علاقے سے گرفتار کیا۔
مزید پوچھ گچھ اور انٹیلیجنس کی تصدیق کے بعد ریپن حسین شیخ اور ابو بکر کو بھی کمرنگیرچر کے رسول پور علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔
#BREAKING 🚨
Hamas-linked “Al-Aqsa” Terror cell busted in #Dhaka.
4 Militants-Imran Chy,Mostakim Chy,Ripon Sheikh & Abu Bakkar-held with Guns,Ammo & Drones.
Police warn of planned Covert strikes on key installations.
Growing Extremist Threat.@ajaykraina @avarakai @Sanjay_Dixit pic.twitter.com/1MSddgyQQ0— Sarwar Saimon (@SarwarWassel) April 29, 2026
کارروائی کے دوران پولیس نے ایک غیر ملکی ساختہ پستول، ایک ون شوٹر بندوق، 14 گولیاں، 3 خالی خول، متعدد اسمارٹ فونز، ڈی وی آر، ایک ڈرون، ڈرون کے پرزہ جات، ملٹی فنکشن چارجر، میٹل ڈیٹیکٹر، لیپ ٹاپ، مختلف الیکٹرونک آلات، بیگز اور شدت پسند نظریات سے متعلق کئی کتب برآمد کیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے ابتدائی پوچھ گچھ میں شدت پسند گروہ کا سرگرم رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں غیرملکی اسلحہ اور منشیات برآمد
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
دہشتگردی، شدت پسندی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف انٹیلیجنس نگرانی اور خصوصی آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔












