دفتر خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی، سفارتی رابطوں کے فروغ اور پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور دیگر متعلقہ حکام، مسلسل رابطوں اور سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ فریقین کے درمیان بات چیت کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا تنازع: قطر نے پاکستان کی ثالثی کو مؤثر قرار دے دیا، مذاکرات کا دائرہ محدود رکھنے پر زور
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ افغان سرحد سے نہایت تشویشناک اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جہاں افغان فورسز نے بنوں اور جنوبی وزیرستان سے ملحقہ علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کی، جس سے سویلین آبادی متاثر ہوئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متاثرہ آبادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان مغربی ایشیا کے تنازعات کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیاں سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا، جبکہ صدر مملکت اس وقت چین کے دورے پر ہیں اور کل وطن واپس پہنچیں گے۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت پر زور دیتا ہے کہ شبیر احمد شاہ، یسین ملک اور دیگر کشمیری رہنماؤں کے خلاف قائم “سیاسی نوعیت کے مقدمات” ختم کیے جائیں، کیونکہ یہ اقدامات بھارت کے عالمی تاثر کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کالے قوانین کے تحت کیا جا رہا ہے اور بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان نے بھارتی تعلیمی اداروں میں ہندوتوا نصاب شامل کرنے اور وزیراعظم کے دورہ لداخ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، کہتے ہیں کہ لداخ ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ ملک ہم سب کا ہے، فضل الرحمان کی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف
ایران امریکا مذاکرات سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جس سے قیمتی جانیں بچیں اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے اور سفارتی عمل جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک کے لیے، اور اس معاملے پر سلامتی کونسل میں بھی غور کیا جا چکا ہے جبکہ فریقین کے درمیان مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور جاری سفارتی عمل کی رازداری برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی اور پرانی تجاویز زیر غور ہیں اور بات چیت کا سلسلہ تعطل کا شکار نہیں بلکہ جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمبوڈیا میں 84 پاکستانی شہری پھنسے ہوئے ہیں جن میں 76 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں۔ پاکستانی سفارتخانہ ان افراد سے رابطے میں ہے اور ان کی صحت و ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق متاثرہ افراد کو مشکوک کمپنیوں کی جانب سے ملازمت کی پیشکش کی گئی، تاہم انہیں سیاحتی ویزے پر وہاں بھیجا گیا اور بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسی غیر مصدقہ کمپنیوں کے جھانسے میں آنے سے گریز کریں۔
مزید پڑھیں: امن مذاکرات: اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، ایرانی سفیر
ترجمان نے صومالی قزاقوں کے پاس موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے کہا کہ صومالی حکام سے رابطے جاری ہیں اور اس ضمن میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ جہاز صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے کنٹ لینڈ میں موجود ہے اور مقامی حکام مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رابطوں کے بعد یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ متاثرہ افراد پاکستانی شہری ہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ناظم الامور کو کابل میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت بعض شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ میں کسی یونیورسٹی پر بمباری کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، جن کا مقصد دہشت گردی کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ ترجمان نے افغان پروپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ارومچی میں پاکستان نے صرف یہ مؤقف پیش کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، تاہم پاکستان اس معاملے میں الزام تراشی سے گریز کرے گا۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کو روایتی ریاستی جنگ بندی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ اس میں وہ مسلح گروہ بھی شامل ہیں جو افغان سرزمین سے سرگرم عمل ہیں۔
مزید پڑھیں: دفتر خارجہ کی ارومچی میں پاک افغان ورکنگ لیول مذاکرات کی تصدیق
بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اردو زبان کو ختم کرنے کی کوششوں کی مذمت کی جاتی ہے، جو وہاں کی ثقافتی شناخت پر حملہ ہے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل میں زیر بحث ہے اور پاکستان اس پر عالمی بینک کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ترجمان نے متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی مبینہ فرقہ وارانہ پروفائلنگ سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے بنیاد اطلاعات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔














