وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بے زمین کسانوں اور دیہی علاقوں کے بے روزگار افراد کے لیے فلاحی پروگرام ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ اسکیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم کا آغاز، ہزاروں افراد مستفید ہوں گے، عظمیٰ بخاری
اس اسکیم کا مقصد غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کو سرکاری زرعی اراضی فراہم کر کے انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانا، دیہی علاقوں میں بے روزگاری میں کمی لانا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور مستقل روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع کے لیے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے۔
اسکیم کے تحت تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سرکاری زرعی اراضی مختص کی گئی ہے اور ہر اہل خاندان کو 3 سے 5 ایکڑ تک اراضی 10 سالہ طویل المدتی لیز پر دی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں تقریباً 50 ہزار افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعے یہ اراضی الاٹ کی جائے گی۔ لیز کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی زمین کی ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے گی اور مستفید ہونے والے افراد کو اس پر مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔
کرایہ صرف 100 روپے فی ایکڑ سالانہ ہوگا جو تقریباً مفت کے برابر ہے۔
منتخب افراد کو کسان کارڈ جاری کیا جائے گا جس کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات سبسڈی کی شرح پر دستیاب ہوں گی۔ اس کے علاوہ زرعی مشینری، ٹیوب ویل اور سولر سسٹم کے لیے آسان اقساط پر قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ نئے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فصلوں کی پیداوار سے متعلق تربیت بھی دی جائے گی۔
مزید پڑھیے: اپنا گھر پروگرام شروع، کم آمدنی والوں کے لیے آسان اقساط پر گھروں کی سہولت، وزیراعظم کا بڑا اعلان
مزید برآں زمین کو قابل کاشت بنانے کے لیے 50 ہزار سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے فی ایکڑ تک ترقیاتی گرانٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔ پنجاب کے ہر ضلع میں 13 ہزار 812 پلاٹس الاٹ کیے جائیں گے جن سے 88 ہزار 780 خاندان مستفید ہوں گے جبکہ چولستان میں 16 ہزار 685 پلاٹس کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اراضی کی نشاندہی پانی کی دستیابی اور زمین کی زرخیزی کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 30 جون 2026 سے اراضی کی تقسیم کا آغاز کیا جائے گا۔
اسکیم کے اہل کون لوگ ہوں گے؟
مذکورہ اسکیم کے تحت اہلیت کے سخت معیار مقرر کیے گئے ہیں تاکہ صرف مستحق افراد ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اہل ہونے کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں:
درخواست گزار کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا ضروری ہے۔
درخواست گزار کے پاس زمین نہ ہو یا زیادہ سے زیادہ 10 مرلہ رہائشی پلاٹ ہو۔
درخواست گزار کی عمر 18 سے 55 سال کے درمیان ہو۔
ایک خاندان سے صرف ایک فرد ہی اہل ہوگا۔
سرکاری ملازمین یا ان کے زیر کفالت افراد اس اسکیم کے لیے نااہل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کا ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ اسکیم کا آغاز، بے زمین کسانوں کو زرعی اراضی دینے کا منصوبہ
جو افراد پہلے سے کسی سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ یا لیز سے مستفید ہو چکے ہوں وہ بھی اس اسکیم کے لیے نااہل ہوں گے۔
درخواست گزار کو خود زمین کاشت کرنی ہوگی۔
درخواستوں کی منظوری میرٹ، جانچ پڑتال اور کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کی جائے گی۔
اراضی صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکے گی جبکہ رہائشی، تجارتی یا کسی اور مقصد کے لیے اس کا استعمال سختی سے منع ہے۔ مستفید شخص کو خود کھیتی کرنی ہوگی اور ذیلی لیز یا اراضی کی منتقلی کی اجازت نہیں ہوگی۔ کرایہ بروقت ادا نہ کرنے پر لیز منسوخ ہو سکتی ہے۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں اراضی بغیر کسی معاوضے کے واپس لی جا سکتی ہے۔
کامیاب درخواست گزاروں کو کسان کارڈ، سبسڈی پر بیج اور کھاد، زرعی تربیت اور مشینری کے لیے آسان قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے۔
درخواست کیسے دیں؟
درخواستیں 2 مئی سے 18 مئی 2026 تک آن لائن جمع کرائی جا سکیں گی۔ نام شامل نہ ہونے کی صورت میں یکم سے 8 جون تک ڈپٹی کمشنر آفس میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔ حتمی فہرست 19 جون کو جاری کی جائے گی جبکہ 30 جون سے زمین کی تقسیم کا آغاز ہوگا۔ درخواست دینا مکمل طور پر مفت ہوگا۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم ’اپنی چھت اپنا گھر‘ کے بعد دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کا مشن دعووں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس سے نہ صرف ہزاروں خاندان خود کفیل بنیں گے بلکہ پنجاب میں زرعی انقلاب کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کا بے روزگار افراد کو سرکاری زمین 10 سال کے لیے لیز پر دینے کا اعلان
یہ اسکیم دیہی نوجوانوں کے لیے واقعی ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ کا عملی ثبوت ثابت ہو سکتی ہے۔













