افغان طالبان کے ترجمان قاری سعید خوستی کے حالیہ بیان کے بعد ایک بار پھر طالبان کے کردار اور بیانیے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قاری سعید خوستی نے اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں پاکستان پر شیخ محمد ادریس کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور آرمی پبلک اسکول پشاور حملے کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب کرنے پر بھی اعتراض کیا، جبکہ دوسری جانب انہوں نے علما کے خلاف تشدد کی مذمت بھی کی۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان سے کس طرح لاتعلقی کر سکتے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان طالبان کے اس دہرے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں الزامات کے ذریعے معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف طالبان، افغانستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسند گروہوں کو محفوظ ٹھکانے، آپریشنل سہولت اور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق طالبان کے بیانات اور زمینی حقائق میں تضاد پایا جاتا ہے، جہاں ایک طرف شدت پسند کارروائیوں کی مذمت کی جاتی ہے، وہیں دوسری جانب انہی عناصر کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جو ذمہ داری سے بچنے اور حقیقت کو دھندلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کے ثبوت ہیں، جہاں سے مبینہ طور پر سرحد پار کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے سینکڑوں حملے بھی کیے گئے، جن میں شدید جانی نقصان ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ چارسدہ میں شیخ محمد ادریس کی شہادت کو بعض حلقے اسی سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد امن اور اعتدال کی آوازوں کو خاموش کرنا بتایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کے لیے ناممکن ہے کہ تحریک طالبان پاکستان پر دباؤ ڈالیں؛ فخر کاکاخیل
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں طالبان قیادت کے بیانات کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنانا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔














