سپریم کورٹ نے منشیات کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے 2 ملزمان کو بری کرتے ہوئے اہم آئینی اور قانونی نکات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مدعی پولیس افسر کا خود ہی تفتیشی افسر بن جانا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے کہا کہ منشیات مقدمات میں مدعی اور آئی او کا دوہرا کردار سختی سے حوصلہ شکنی کے مترادف ہے کیونکہ مدعی ہمیشہ سزا دلوانے کی جانب مائل ہوتا ہے، جس سے غیر جانبدار تفتیش ممکن نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار
فیصلے میں کہا گیا کہ اپنی ہی درج کردہ ایف آئی آر کی کھلے ذہن سے تفتیش تقریباً ناممکن ہوتی ہے اور مدعی بطور آئی او صرف اپنے الزامات ثابت کرنے کے لیے شواہد تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق ایسی تفتیش انصاف کی فراہمی کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے مدعی کو تفتیشی افسر مقرر کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات دینا لازمی ہیں، بصورت دیگر استغاثہ کا مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ تفتیش کا شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق ہونا آئینی تقاضا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے۔
سپریم کورٹ نے تفتیشی عمل، شواہد اور فورینزک طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے باپ کے قاتل کو صلح نامہ کی بنیاد پر رہائی کا حکم دیدیا
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت میں پیش کیے گئے پارسلز پر ریکوری گواہ کے دستخط واضح نہیں تھے جبکہ پروسیکیوشن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ عدالت میں پیش کیا گیا مواد وہی تھا جو ملزمان سے برآمد ہوا تھا۔
عدالت نے کیس پراپرٹی کی محفوظ تحویل اور لیبارٹری منتقلی کے عمل کو بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ معمولی شک کا فائدہ بھی ملزم کو دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا، لہٰذا ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔














