خیبر پختونخوا کی ہدایت پر وفاق کی جانب سے مبینہ امتیازی سلوک اور صوبے کے بقایات نہ دینے کے خلاف بدھ کو صوبے کے سرکاری ملازمین نے اپنی نوعیت کی پہلی قلم چھوڑ ہڑتال کی، اور صوبے میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام سرکاری امور بند رہے۔
کسی بھی صوبے یا وفاق میں سرکاری ملازمین کی جانب سے اپنی تنخواہوں یا دیگر مطالبات کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال یا احتجاج ہوتے رہے ہیں، لیکن حکومت کی ہدایت اور نگرانی میں ہڑتال پہلی بار ہوئی۔ بدھ کو ہونے والی قلم چھوڑ ہڑتال کی کال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کو صوبہ بنانے کے معاملے پر وفاقی حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے؟
وزیراعلیٰ نے صوبے میں قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہونے کے باعث وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس کے معاملات میں صوبے کے ساتھ دانستہ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف انہوں نے 6 مئی بروز بدھ صوبہ بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دی تھی، جس پر سرکاری دفاتر میں ملازمین تو آئے لیکن کام نہیں کیا۔
‘صوبے کے لیے وزیراعلیٰ کا ساتھ دیا’
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کال کا صوبے کی بیوروکریسی اور دیگر ملازمین نے بھی ساتھ دیا۔ پی ایم ایس کے چیئرمین نعمان وزیر نے وی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے قلم چھوڑ ہڑتال کا ساتھ دیا اور بدھ کو تمام سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوا، جبکہ افسران اور دیگر ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کی۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ‘وفاق صوبے سے ٹیکس اور دیگر مدات میں پیسے لے رہی ہے لیکن ترقیاتی کاموں میں صوبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔’
انہوں نے بتایا کہ وفاق کو تمام صوبوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیے، اور وہ صوبے اور یہاں کے لوگوں کی خاطر قلم چھوڑ ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
‘صوبہ سرکاری ملازمین کو وفاق کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے’
قلم چھوڑ ہڑتال کے دوران صوبے کے سرکاری دفاتر میں حاضری معمول سے کم نظر آئی اور جو ملازمین دفاتر آئے وہ حاضری لگا کر گھروں کو چلے گئے۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ قلم چھوڑ ہڑتال علامتی تھی جس کا وفاق پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
یہ بھی پڑھیے: جنگی صورتحال کے بعد سرکاری اخراجات میں کمی کا مشن، وفاق اور صوبے کیا اقدامات کررہے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ صوبائی سطح کے جو کام تھے وہ معمول کے مطابق ہوئے، جبکہ وفاق سے رابطہ معطل رہا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں کام معمول کے مطابق رہا، جبکہ زیادہ تر ملازمین چھٹی کرکے گھروں میں بیٹھ گئے۔ ‘یہ سہیل آفریدی کی وفاق پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، جس میں سرکاری ملازمین کو استعمال کیا جا رہا ہے۔’
ملازمین صوبے سے تنخواہوں میں اضافے کے لیے سراپا احتجاج، صوبہ وفاق کے خلاف
بجٹ کی تیاری شروع ہوتے ہی سرکاری ملازمین نے بھی تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے ملازمین نے گزشتہ دنوں صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور مستقلی کے ساتھ تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایجوکیشنل مانیٹرنگ اتھارٹی کے ملازمین نے سروس رولز کے مطالبات شروع کر دیے ہیں۔
صوبائی مشیر اطلاعات نے مظاہرین کو یقین دہانی کراتے ہوئے اس کا ذمہ دار سیاسی مخالف وفاقی حکومت کو قرار دیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وفاق صوبے کو بقایات اور فنڈز نہیں دے رہا، جس کی وجہ سے ملازمین کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔
قلم چھوڑ ہڑتال سے آخر فائدہ کیا ہوا؟
صوبائی حکومت کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال کا مقصد یہ بتانا تھا کہ وفاق صوبے کو اس کا حق نہیں دے رہا، جس سے صوبے کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ پی ایم ایس کے چیئرمین نعمان وزیر کے مطابق ٹوکن ہڑتال کا مقصد حق کے لیے آواز اٹھانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سننے کے قابل ہیں یا سنتے ہیں، ان کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال اہم تھی، صوبے کے عوام کے لیے اپنا احتجاج ریکارڈ کیا اور وفاق کو بتا دیا کہ وہ عوام کے ساتھ ہیں۔
صحافی و تجزیہ کار عارف حیات، جو سرکاری امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال محض صوبائی حکومت کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تھی، جو ملازمین کے دباؤ اور غصے کو کم کرنے کی ایک کوشش اور وفاق پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ تھی۔
انہوں نے بتایا کہ قلم چھوڑ ہڑتال سے وفاق کو کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اس سے صوبے کے عام لوگ ہی متاثر ہوئے اور سرکاری امور ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ ان کے مطابق، ‘یہ ایک بے فائدہ ہڑتال تھی۔ ملازمین اس مہنگائی میں سرکاری فیول خرچ کرکے دفتر آئے اور کام نہیں کیا تو نقصان کس کا ہوا؟’
عارف نے بتایا کہ سرکاری معاملات اور بقایاجات احتجاج یا دھمکیوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ بہتر رابطوں اور ورکنگ ریلیشن سے ہی حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ ان معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ سرکاری معاملات میں سیاسی اور جماعتی ایشوز لا رہا ہے، جس سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو چاہیے کہ وفاق کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور متعلقہ فورمز پر جدوجہد کریں، کیونکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے ایسے معاملات حل نہیں ہوتے۔












