خیبر پختونخوا حکومت کی سرپرستی میں وفاق کیخلاف سرکاری ملازمین کی منفرد قلم چھوڑ ہڑتال، لیکن فائدہ کیا ہوا؟

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کی ہدایت پر وفاق کی جانب سے مبینہ امتیازی سلوک اور صوبے کے بقایات نہ دینے کے خلاف بدھ کو صوبے کے سرکاری ملازمین نے اپنی نوعیت کی پہلی قلم چھوڑ ہڑتال کی، اور صوبے میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام سرکاری امور بند رہے۔

کسی بھی صوبے یا وفاق میں سرکاری ملازمین کی جانب سے اپنی تنخواہوں یا دیگر مطالبات کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال یا احتجاج ہوتے رہے ہیں، لیکن حکومت کی ہدایت اور نگرانی میں ہڑتال پہلی بار ہوئی۔ بدھ کو ہونے والی قلم چھوڑ ہڑتال کی کال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی کو صوبہ بنانے کے معاملے پر وفاقی حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے؟

وزیراعلیٰ نے صوبے میں قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہونے کے باعث وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس کے معاملات میں صوبے کے ساتھ دانستہ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف انہوں نے 6 مئی بروز بدھ صوبہ بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دی تھی، جس پر سرکاری دفاتر میں ملازمین تو آئے لیکن کام نہیں کیا۔

‘صوبے کے لیے وزیراعلیٰ کا ساتھ دیا’

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کال کا صوبے کی بیوروکریسی اور دیگر ملازمین نے بھی ساتھ دیا۔ پی ایم ایس کے چیئرمین نعمان وزیر نے وی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے قلم چھوڑ ہڑتال کا ساتھ دیا اور بدھ کو تمام سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوا، جبکہ افسران اور دیگر ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ‘وفاق صوبے سے ٹیکس اور دیگر مدات میں پیسے لے رہی ہے لیکن ترقیاتی کاموں میں صوبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ وفاق کو تمام صوبوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیے، اور وہ صوبے اور یہاں کے لوگوں کی خاطر قلم چھوڑ ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

‘صوبہ سرکاری ملازمین کو وفاق کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے’

قلم چھوڑ ہڑتال کے دوران صوبے کے سرکاری دفاتر میں حاضری معمول سے کم نظر آئی اور جو ملازمین دفاتر آئے وہ حاضری لگا کر گھروں کو چلے گئے۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ قلم چھوڑ ہڑتال علامتی تھی جس کا وفاق پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

یہ بھی پڑھیے: جنگی صورتحال کے بعد سرکاری اخراجات میں کمی کا مشن، وفاق اور صوبے کیا اقدامات کررہے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ صوبائی سطح کے جو کام تھے وہ معمول کے مطابق ہوئے، جبکہ وفاق سے رابطہ معطل رہا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں کام معمول کے مطابق رہا، جبکہ زیادہ تر ملازمین چھٹی کرکے گھروں میں بیٹھ گئے۔ ‘یہ سہیل آفریدی کی وفاق پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، جس میں سرکاری ملازمین کو استعمال کیا جا رہا ہے۔’

ملازمین صوبے سے تنخواہوں میں اضافے کے لیے سراپا احتجاج، صوبہ وفاق کے خلاف

بجٹ کی تیاری شروع ہوتے ہی سرکاری ملازمین نے بھی تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے ملازمین نے گزشتہ دنوں صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور مستقلی کے ساتھ تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایجوکیشنل مانیٹرنگ اتھارٹی کے ملازمین نے سروس رولز کے مطالبات شروع کر دیے ہیں۔

صوبائی مشیر اطلاعات نے مظاہرین کو یقین دہانی کراتے ہوئے اس کا ذمہ دار سیاسی مخالف وفاقی حکومت کو قرار دیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وفاق صوبے کو بقایات اور فنڈز نہیں دے رہا، جس کی وجہ سے ملازمین کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

قلم چھوڑ ہڑتال سے آخر فائدہ کیا ہوا؟

صوبائی حکومت کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال کا مقصد یہ بتانا تھا کہ وفاق صوبے کو اس کا حق نہیں دے رہا، جس سے صوبے کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ پی ایم ایس کے چیئرمین نعمان وزیر کے مطابق ٹوکن ہڑتال کا مقصد حق کے لیے آواز اٹھانا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سننے کے قابل ہیں یا سنتے ہیں، ان کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال اہم تھی، صوبے کے عوام کے لیے اپنا احتجاج ریکارڈ کیا اور وفاق کو بتا دیا کہ وہ عوام کے ساتھ ہیں۔

صحافی و تجزیہ کار عارف حیات، جو سرکاری امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال محض صوبائی حکومت کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تھی، جو ملازمین کے دباؤ اور غصے کو کم کرنے کی ایک کوشش اور وفاق پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ تھی۔

انہوں نے بتایا کہ قلم چھوڑ ہڑتال سے وفاق کو کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اس سے صوبے کے عام لوگ ہی متاثر ہوئے اور سرکاری امور ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ ان کے مطابق، ‘یہ ایک بے فائدہ ہڑتال تھی۔ ملازمین اس مہنگائی میں سرکاری فیول خرچ کرکے دفتر آئے اور کام نہیں کیا تو نقصان کس کا ہوا؟’

عارف نے بتایا کہ سرکاری معاملات اور بقایاجات احتجاج یا دھمکیوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ بہتر رابطوں اور ورکنگ ریلیشن سے ہی حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ ان معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ سرکاری معاملات میں سیاسی اور جماعتی ایشوز لا رہا ہے، جس سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو چاہیے کہ وفاق کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور متعلقہ فورمز پر جدوجہد کریں، کیونکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے ایسے معاملات حل نہیں ہوتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم