انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے ہلمہیرا میں واقع ڈوکونو آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں 3 کوہ پیما ہلاک جبکہ 10 لاپتا ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 2 غیر ملکی اور ایک مقامی شہری شامل ہے۔ آتش فشاں سے راکھ اور دھوئیں کا بادل قریباً 10 کلومیٹر بلند فضا میں پھیل گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ 7 افراد محفوظ طور پر پہاڑ سے نیچے آ گئے، تاہم مزید 10 افراد کی تلاش جاری ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق 5 کوہ پیما زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں 7.8 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ جاری
امدادی کارروائیوں میں دشوار گزار راستوں اور مسلسل آتش فشانی گڑگڑاہٹ کے باعث مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بعض مقامات تک گاڑیاں نہیں پہنچ سکتیں، جس کی وجہ سے زخمیوں اور متاثرین کو اسٹریچر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ارضیاتی ادارے کے مطابق آتش فشاں کے پھٹنے کے دوران زور دار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی جبکہ راکھ شمالی علاقوں کی جانب پھیل رہی ہے، جس سے آبادیوں اور قریبی شہر کو راکھ کی بارش کا خطرہ لاحق ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ آتش فشانی دھواں انسانی صحت اور آمد و رفت کے نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:انڈونیشیا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، 8 افراد جاں بحق
انڈونیشیا بحرالکاہل کے آتشیں دائرے میں واقع ہے جہاں زمینی پلیٹوں کی حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں معمول کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ ملک میں قریباً 130 فعال آتش فشاں موجود ہیں۔
حکام کے مطابق ڈوکونو آتش فشاں کے گرد خطرناک علاقے میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی تھی، تاہم بعض کوہ پیماوں نے انتباہی ہدایات کو نظر انداز کیا۔














