وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ژیاؤچن ایما فین نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں آبی وسائل، زراعت، معدنیات و کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، تشدد یا دہشتگردی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
ملاقات میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے کچھی کینال سمیت بلوچستان کے آبی و زرعی ترقیاتی منصوبوں میں وسیع المدتی سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اسکلز ڈویلپمنٹ اور روزگار کے قابل عمل منصوبوں میں اشتراکی حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی عمل میں عالمی اور قومی ڈویلپمنٹ پارٹنرز کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں قابل عمل اور منافع بخش شعبوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ محدود ترقیاتی وسائل کے باوجود عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی حکمت عملی پر عمل درآمد اور پسماندگی کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے تاہم صوبائی حکومت عوامی مفاد پر مبنی دیرپا ترقیاتی ترجیحات کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے 10 سالہ جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور صوبے کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور پرکشش خطہ بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: سرفراز بگٹی کا بلوچستان میں نئے ضلع کے قیام کا اعلان
انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور سیکیورٹی فراہم کرے گی اور میگا منصوبوں کی تکمیل و تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں اور نئے مواقع کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
تعلیم کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان میں 3200 بند اسکول دوبارہ کھولے جا چکے ہیں جبکہ 2100 کمیونٹی بیسڈ نئے اسکول بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کی توجہ معیاری تعلیم اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا دورہ سوئی، رنگ روڈ اور گیس منصوبوں کا افتتاح
انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس اور میرٹ کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔














