بنگلہ دیش کی پاور اتھارٹیز نے بھارت اور چین کی شراکت سے قائم کئی بڑے کوئلہ بجلی منصوبوں کے مہنگے ٹیرف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان معاہدوں کا ازسرنو جائزہ شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منشیات اسمگلنگ اور مالی جرائم کے خلاف تاریخی معاہدے پر دستخط
حکام کے مطابق ان منصوبوں کے تحت بجلی کی پیداوار کی لاگت غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث حکومت کو سالانہ اربوں ٹکا سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ جائزے میں بھارت کے گڈا پاور پلانٹ، بھارت بنگلہ دیش مشترکہ رامل پلانٹ، چین کے تعاون سے قائم پایرا تھرمل پلانٹ اور آر پی سی ایل-نورینکو منصوبہ شامل ہیں۔
توانائی حکام کا کہنا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں کیے گئے طویل المدتی معاہدوں میں ایسے شرائط شامل ہیں جنہوں نے بجلی کی قیمت اور مالی بوجھ میں اضافہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: انتخابات کے بعد سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں، فخرالاسلام
اب بنگلہ دیش حکومت بھارت اور چین کے ساتھ سفارتی سطح پر ان معاہدوں پر نظرثانی اور ٹیرف میں کمی کے لیے بات چیت پر غور کر رہی ہے، تاکہ قومی بجٹ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔














