فلسطین کی طرف امداد لے جانے والے غزہ فلوٹیلا کے کارکنوں کی رہائی سے متعلق ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل آج دو غیر ملکی کارکنوں کو حراست سے رہا کرنے کے بعد امیگریشن حکام کے حوالے کرے گا تاکہ انہیں ملک بدر کیا جا سکے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم عدالہ کے مطابق رہا ہونے والے کارکنوں میں ہسپانوی نژاد فلسطینی شہری سعف ابو کشک اور برازیل کے تیاگو ایویلا شامل ہیں۔ دونوں کو 30 اپریل کو یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں غزہ جانے والے فلوٹیلا پر اسرائیلی بحریہ نے روکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 20 افراد ہلاک، متعدد زخمی
رپورٹس کے مطابق اس فلوٹیلا کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر محصور فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اسرائیلی حکام نے انہیں حراست میں لے کر تفتیش کی جبکہ دیگر کارکنوں کو یونان منتقل کر کے رہا کر دیا گیا تھا۔
عدالہ نے کہا ہے کہ دونوں کارکنوں کو کئی دنوں سے قید تنہائی میں رکھا گیا اور سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ انہوں نے بھوک ہڑتال بھی کی جبکہ ابو کشک نے بعد میں پانی پینے سے بھی انکار کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: لبنان اور اسرائیل کے درمیان نئے مذاکرات 14 مئی کو واشنگٹن میں ہوں گے
دوسری جانب اسرائیل نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کے خلاف ‘دشمن کی مدد’ اور ‘دہشت گرد تنظیم سے وابستگی’ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم اب تک کوئی باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔
اس فلوٹیلا میں شامل کارکنوں کا تعلق مختلف یورپی اور لاطینی امریکی ممالک سے تھا، اور اسے غزہ کی انسانی صورتحال پر عالمی توجہ دلانے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔ اسپین، برازیل اور اقوام متحدہ نے بھی ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔














