خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سرکاری گندم کے ذخائر سے بڑی مقدار میں گندم غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر محکمہ خوراک نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع بنوں کے محکمہ خوراک کی جانب سے اپریل 2026 میں ارسال کردہ ایک مراسلے کے مطابق نڑ حافظ آباد کے گوداموں کے حالیہ معائنے میں مزید 123.171 میٹرک ٹن گندم کی کمی سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اسی ذخیرہ مرکز سے پچھلے چند ماہ میں کمی کی پانچویں رپورٹ ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا کسان دوست اقدام، گندم کے کاشتکاروں کو 6 ارب کا باردانہ مفت دینے کا اعلان
حالیہ کمی کے بعد پراونشل ریزرو سینٹر بنوں میں مجموعی گندم کی کمی بڑھ کر 391.176 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق گودام نمبر 8 سے 100 کلو اور 50 کلو کے تھیلوں میں مجموعی طور پر 74.292 میٹرک ٹن گندم غائب پائی گئی، جبکہ گودام نمبر 9 سے 25.727 میٹرک ٹن اور گودام نمبر 3 سے 23.152 میٹرک ٹن گندم بھی کم نکلی۔ یہ تمام اسٹاک باضابطہ طور پر سرکاری ادارے پاسکو کی ملکیت تھا۔
محکمہ خوراک کے ایک سینئر افسر کے مطابق ایک ہی مرکز سے بار بار کمی کی رپورٹس انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی 4 رپورٹس میں قریباً 268 میٹرک ٹن گندم کی کمی رپورٹ ہو چکی تھی جو اب بڑھ کر 391 میٹرک ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔
دوسری جانب سوات کے پراونشل ریزرو سینٹر میں بھی بڑی بے ضابطگی سامنے آئی ہے، جہاں 633.200 میٹرک ٹن گندم جو سرکاری ریکارڈ میں موجود تھی، معائنے کے دوران غائب پائی گئی۔
معائنہ رپورٹ کے مطابق ٹخہ بانڈ کے گوداموں میں مجموعی طور پر 39,939 تھیلے موجود تھے جن میں 2,024.200 میٹرک ٹن گندم ریکارڈ کی گئی، تاہم سرکاری دستاویزات میں درج 12,421 تھیلے یعنی 633.200 میٹرک ٹن گندم موجود نہیں پائی گئی۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ گودام مکمل طور پر خالی پائے گئے جبکہ ہزاروں تھیلے طویل عرصے سے ذخیرہ ہونے کے باعث ناقابل استعمال حالت میں پہنچ چکے تھے۔
محکمہ خوراک خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ تمام اضلاع میں خصوصی آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی ثابت ہوئی تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔














