برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی قیادت کے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ایک 10 سالہ منصوبہ ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔
برطانوی وزیر اعظم کا یہ بیان بلدیاتی انتخابات میں اسٹارمر کی لیبر پارٹی کی گزشتہ 3 دہائیوں میں کسی بھی حکمران جماعت کی بدترین شکست کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: مقامی انتخابات میں حکمران جماعت کو بھاری نقصان، وزیراعظم اسٹارمر کا مستعفی ہونے سے انکار
دوسری جانب دائیں بازو کی عوام پسند جماعت ریفارم یو کے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جس کے بعد لیبر پارٹی کے اندرکیئر اسٹارمر کو ہٹانے کی آوازیں تیز ہوگئی ہیں۔
اسٹارمر کی سابق وزیر کیتھرین ویسٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیر تک کابینہ نے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے اقدامات نہ کیے تو وہ پارٹی اراکین کی حمایت حاصل کرکے قیادت کے انتخاب کا مطالبہ کریں گی۔
پارٹی قوانین کے مطابق قیادت کو چیلنج کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے 20 فیصد، یعنی 81 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، جبکہ اب تک تقریباً 30 ارکانِ پارلیمنٹ اسٹارمر کی قیادت پر کھل کر تنقید کرچکے ہیں۔
UK's Starmer says his government is a 10-year project despite calls to quit https://t.co/GNZkzsTwOb https://t.co/GNZkzsTwOb
— Reuters (@Reuters) May 10, 2026
اخبار آبزرور کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ وہ اگلے عام انتخابات میں بھی نہ صرف لیبر پارٹی کی قیادت کریں گے بلکہ دوسری مدت بھی پوری کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ جولائی 2024 میں ملنے والی عوامی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی ملک کو سیاسی انتشار میں دھکیلیں گے۔
اگر آنے والے ہفتوں میں اسٹارمر کو ہٹا دیا گیا تو گزشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کو 7واں وزیراعظم مل جائے گا۔
مزید پڑھیں: کیئر اسٹارمر کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر دن گنے جا چکے ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ
بلدیاتی انتخابات میں شکست کے باوجود وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی کابینہ اب تک ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر تعلیم بریجٹ فلپسن نے کہا کہ وزیراعظم حالات بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پیر کو اپنی تقریر میں برطانیہ کے لیے نئی سمت پیش کریں گے۔
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ووٹرز نے لیبر پارٹی کو سخت سبق دیا ہے اور پارٹی کو سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔
دوسری جانب بعض بائیں بازو کے لیبر اراکین نے فوری قیادت کی تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر ‘پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے’ کی تحقیقات سے بچ گئے
سابق پارٹی رہنما جیریمی کوبائن کے دور میں معاشی امور کے سربراہ رہنے والے جون مکڈونیل نے کہا کہ کچھ حلقے پس پردہ صورتحال کا فائدہ اٹھا کر جلد بازی میں قیادت کی جنگ شروع کرانا چاہتے ہیں۔
جبکہ رکن پارلیمنٹ ایان بائرن نے خبردار کیا کہ جلد بازی میں کیا گیا اقدام پارٹی کے ایک مخصوص گروہ کے حق میں استعمال ہوسکتا ہے۔
ادھر اینڈی برن ہیم، جنہیں بائیں بازو کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس وقت رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں، اس لیے اگر جلد انتخاب ہوا تو وہ اس میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔














