مشترکہ جائیداد پورے کی پوری حق مہر میں نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے حق مہر میں دی گئی جائیداد کی منتقلی سے متعلق اہم قانونی اصول طے کردیا۔

قرار دیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار اپنے موروثی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شوہر مشترکہ جائیداد میں صرف اپنے حصے کی حد تک ہی حق مہر دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا نکاح نامہ میں اہم تبدیلیوں کا حکم، جہیز اور حق مہر کے لیے کالم شامل ہوں گے

سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر سول پٹیشن بھی خارج کر دی، تحریری فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پورے گھر یا مکمل جائیداد کو حق مہر میں دینے کا دعویٰ دیگر قانونی ورثاء کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے نکاح رجسٹرارز اور نکاح خواں حضرات کو ہدایت کی ہے کہ وہ حق مہر میں درج جائیداد کی ملکیت کی مکمل تصدیق کریں تاکہ بعد ازاں قانونی تنازعات اور غیر ضروری مقدمات سے بچا جا سکے۔

مزید پڑھیں: جام مہتاب حملہ کیس، سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی توثیق کر دی

فیصلے میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ نکاح نامے میں جائیداد کی ملکیت سے متعلق ایک علیحدہ کالم شامل کیا جائے، تاکہ حق مہر کے طور پر درج کی جانے والی جائیداد کی قانونی حیثیت واضح رہے۔

عدالت نے فیصلے کی نقل تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو ضروری کارروائی اور عملدرآمد کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp