وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد میں ممکنہ خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بنا کر ملک کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔
بلوچستان کی ایک اور بیٹی فتنہ الہندستان کا ایندھن بنے سے بچالی گئی اٹیلیجنس ایجنسیوں کی بڑی کامیابی pic.twitter.com/bKXsGmyXvJ
— WE News (@WENewsPk) May 11, 2026
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے ایک گرفتار خاتون کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ خاتون خودکش حملے کے مشن پر تھی اور اسے اسلام آباد میں ہدف دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور: فائرنگ کا افسوسناک واقعہ، خاتون اور 2 بچے قتل، ملزم نے خودکشی کر لی
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد معصوم خواتین اور بچیوں کو ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے بقول بلوچستان کی روایات میں خواتین کو اس نوعیت کی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بچیوں کو تعلیم اور محفوظ مستقبل دینا چاہتی ہے، جبکہ دہشتگرد انہیں خودکش جیکٹس پہنا کر تشدد کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار خاتون کو باعزت طریقے سے اس کے والد کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
ہنی ٹریپنگ کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے، اس بچی کو خود کش حملہ نہ کرنے پر والد کو مارنے کی دھمکی دی گئی، اٹیلیجنس ایجنسیوں کی بروقت اور کامیاب کارروائی سے بچی بازیاب ہوئی اور اس بچی سے اسلام آباد میں خود کش حملہ کروانا تھا، وزیراعلی سرفراز بگٹی pic.twitter.com/v557JiDV5m
— WE News (@WENewsPk) May 11, 2026
وزیرِ اعلیٰ کے مطابق دہشتگردوں نے خاتون کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے حملہ نہ کیا تو اس کے والد کو قتل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بلوچ بچیوں کا استحصال کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران گرفتار خاتون نے بتایا کہ اس کے کزن نے اسے تنظیم کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا اور انکار کی صورت میں والد کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں مبینہ خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری، دہشتگرد نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات
خاتون کے مطابق ابتدا میں وہ موبائل کارڈ اور کھانا پہنچاتی رہی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سرگرمیاں کالعدم تنظیم کے لیے انجام دی جا رہی تھیں۔
کچھ عرصہ پہلے اِن خاتون کے لاپتہ ہونے کی سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔ میں اِسے سکیورٹی انٹیلیجنس اداروں کا ایک بڑا اور کامیاب آپریشن کہوں گا۔گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا کہ اس لڑکی کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اُس نے اسلام آباد میں خودکش حملہ نہ کیا تو اُس کے والد کو قتل کر دیا جائے… pic.twitter.com/9V3sI9I03G
— WE News (@WENewsPk) May 11, 2026
خاتون نے کہا کہ اسے خودکش حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا گیا تھا، تاہم پولیس نے حراست میں لینے کے بعد اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے انٹیلی جنس اداروں کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدام کے باعث نہ صرف ایک معصوم بچی کو بچایا گیا بلکہ ملک کو بھی بڑے سانحے سے محفوظ رکھا گیا۔














