بھارت میں مغربی بنگال کے حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھارتی جریدے ’دی وائر‘ کی ایک رپورٹ میں انتخابی عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاکھوں افراد کو ووٹر فہرستوں سے نکال کر حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں کے مسلم مخالف بیانات نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی فضا کو استعمال کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بہار کے بعد مغربی بنگال میں بھی منظم دھاندلی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔ ’دی وائر‘ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں تقریباً ایک کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے، جبکہ 27 لاکھ شہریوں کو معمولی تضادات کی بنیاد پر ووٹنگ کے حق سے محروم کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حتمی ووٹر فہرست جاری ہونے کے بعد مزید 6 لاکھ ووٹرز کے اندراج نے انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے انتخابی کامیابی کے بعد مغربی بنگال میں بی جے پی کے مخالفین پر حملے، 4 افراد ہلاک
اسی دوران مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے متنازع بیانات بھی شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ ادھیکاری نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے لیے اس وقت تک کام نہیں کریں گے جب تک وہ ’اپنا مذہب تبدیل نہ کر لیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو ’ویسا سبق سکھایا جائے جیسا اسرائیل نے غزہ میں سکھایا‘۔
بی جے پی کے دیگر رہنما، جن میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما شامل ہیں، بھی ماضی میں مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مغربی بنگال انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں میں کٹوتی، خارج کیے گئے ناموں میں مسلمانوں کا تناسب 34 فیصد
سیاسی و عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوؤں کو متاثر کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق بی جے پی حکومت ہندوتوا ایجنڈے کو فروغ دینے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے ریاستی اداروں اور انتخابی نظام کو استعمال کر رہی ہے۔














