وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح خواتین کے لیے ایک محفوظ صوبہ بنانا ہے جہاں کوئی بھی خاتون جب چاہے بااعتماد اور محفوظ ماحول میں گھر سے باہر نکل سکے اور اسے کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا تعلق بھی اسی تعلیمی ادارے سے ہے جو ان کے لیے فخر کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ سیاست میں آئیں گی۔
میں خواتین کی طاقت پر یقین رکھتی ہوں۔ میں پاکستان کی بیٹیوں پر یقین رکھتی ہوں۔
میری ذات کو چھوڑ دیں، لیکن کیا یہ خواتین کے لیے فخر کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا تعلق لاہور کالج ویمن یونیورسٹی سے ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز pic.twitter.com/vcySkylJvj— WE News (@WENewsPk) May 12, 2026
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ارکانِ اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار
مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں چند سال قبل تک خواتین فرنٹ لائن میں نظر نہیں آتیں تھیں تاہم آج صورتحال بدل چکی ہے اور وہ خود بطور وزیراعلیٰ اس تبدیلی کی مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری سمیت متعدد خواتین آج سیاست اور حکومت میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ صوبے کے کئی اداروں کی قیادت بھی خواتین کے پاس ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور کالج یونیورسٹی سے ان کی کئی یادیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈگری حاصل کرنا سفر کا اختتام نہیں بلکہ اصل زندگی کا آغاز ہے اور معاشرہ خواتین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔
مزید پڑھیں: بھارت سے آئے سکھ یاتریوں کی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تعریف
مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ لکھی ہوئی تقریر کرنے کے بجائے عوام سے دل کی بات کرنا پسند کرتی ہیں اور انہیں نوجوانوں کو درپیش چیلنجز کا بخوبی علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ نوجوان مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں تاہم حکومت ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں سیاست میں آؤں گی۔ مسلم لیگ تاریخی طور پر میل ڈومیننٹ سیاسی جماعت تھی۔ میں اپنی تعریف نہیں کر رہی، لیکن اس مردوں کے زیرِاثر جماعت میں اپنی جگہ بنانا اور مردوں کا مقابلہ کرکے کامیاب ہو کر آنا کوئی چھوٹی بات نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز pic.twitter.com/jnIpKHOQ6v
— WE News (@WENewsPk) May 12, 2026
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا فوکس خواتین کے تحفظ پر ہے اور اگر کسی خاتون کے ساتھ ہراسانی، چھیڑ چھاڑ، زیادتی یا کسی قسم کی بے حرمتی کا واقعہ پیش آئے تو وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک ذمہ دار قانون کے کٹہرے میں نہ آ جائیں۔














