دنیا کے ڈیجیٹل نظام خطرے میں، اے آئی سے ہونے والے سائبر حملے بے قابو، گوگل کی وارننگ

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سائبر ہیکنگ تیزی سے ایک ’صنعتی پیمانے کے خطرے‘ کی شکل اختیار کر رہی ہے جس میں ریاستی حمایت یافتہ اور جرائم پیشہ گروہ جدید اے آئی ٹولز کو بڑے پیمانے پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

گوگل کی تھریٹ انٹیلیجنس ٹیم کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور اب اے آئی صرف ایک معاون ٹول نہیں بلکہ سائبر حملوں کو زیادہ تیز، پیچیدہ اور مؤثر بنانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین، شمالی کوریا اور روس سے منسلک مبینہ ریاستی عناصر سمیت مختلف جرائم پیشہ گروہ تجارتی اے آئی ماڈلز جیسے Gemini، Claude اور OpenAI کے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے اپنے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد بہتر بنا رہے ہیں۔

گوگل کے چیف اینالسٹ جان ہلٹوکوسٹ کے مطابق یہ غلط فہمی ہے کہ اے آئی پر مبنی سائبر خطرات مستقبل کا مسئلہ ہیں جبکہ حقیقت میں یہ خطرہ پہلے ہی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور اے آئی کی مدد سے نہ صرف اپنی کارروائیوں کی رفتار بڑھا رہے ہیں بلکہ وہ زیادہ جدید میلویئر تیار کرنے اور سافٹ ویئر کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کو جھانسا: آنکھوں کی ایک فرضی بیماری کو حقیقی سمجھ کر چیٹ بوٹس طبی مشورے دینا شروع

رپورٹ میں ایک حالیہ واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں ایک مجرمانہ گروہ ایک ’زیرو ڈے‘ سیکیورٹی کمزوری کو بڑے پیمانے پر حملے کے لیے استعمال کرنے کے قریب تھا۔ یہ گروہ مبینہ طور پر ایک ایسے اے آئی ماڈل کا استعمال کر رہا تھا جو مختلف نظاموں میں پہلے سے نامعلوم کمزوریاں تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ کچھ گروہ ‘OpenClaw’ نامی اے آئی ٹول کے ساتھ بھی تجربات کر رہے ہیں جو بغیر سخت حفاظتی کنٹرول کے صارفین کو خودکار ایجنٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور ای میل سسٹمز تک رسائی دیتا ہے تاہم اس کے غلط استعمال سے ڈیٹا ضائع ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے عوامی سروے: کیا یہ زیادہ درست رائے فراہم کرسکتے ہیں؟

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی جہاں حملہ آوروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، وہیں دفاعی نظام کو بھی مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے نئے دور میں کمزوریاں تلاش کرنے کا عمل اب انسانی نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے زیادہ تیز اور وسیع ہو رہا ہے جس کے اثرات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں: سویڈن کا انوکھا کیفے، اے آئی منیجر نے انسانوں کو کام پر رکھ لیا

دوسری جانب اے آئی کے معاشی فوائد سے متعلق دعووں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایڈا لیولیس انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتوں اور اداروں کی جانب سے اے آئی سے اربوں پاؤنڈ کی بچت کے اندازے اکثر غیر تصدیق شدہ مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں جن میں حقیقی کارکردگی، ملازمتوں پر اثرات اور سروسز کے معیار میں بہتری جیسے پہلوؤں کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا جاتا۔

ماہرین نے سفارش کی ہے کہ اے آئی کے اثرات پر طویل المدتی اور حقیقت پر مبنی تحقیق کی جائے تاکہ اس کے حقیقی فوائد اور خطرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp