اے آئی کے عوامی سروے: کیا یہ زیادہ درست رائے فراہم کرسکتے ہیں؟

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اب سیاسی اور سماجی سروے تیزی سے بدل رہی ہے جس سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مستقبل میں اے آئی زیادہ درست رائے عامہ کے سروے فراہم کر سکے گا؟

یہ بھی پڑھیں: ’ٹیکن فار گرانٹڈ‘ والا معاملہ اے آئی میں بھی؟ زیادہ دوستانہ چیٹ بوٹس کم قابل بھروسا، نئی تحقیق

غیر ملکی میڈیا کے رپورٹ کے مطابق ایک مثال میں ایک اے آئی ایجنٹ لوگوں سے سوال کرتا ہے کہ جب آپ لفظ ‘سیاستدان’ سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کون سا پہلا خیال یا احساس آتا ہے؟

یہ آواز کسی انسان کی نہیں بلکہ ایک کمپیوٹر پروگرام کی ہے۔ سامنے موجود شخص جواب دیتا ہے اور اس کے جواب کے دوران 3 الگ اے آئی سسٹمز اس کی بات کو پرکھتے ہیں۔ ایک چیک کرتا ہے کہ جواب اصل سوال سے متعلق ہے یا نہیں، دوسرا دیکھتا ہے کہ جواب سطحی تو نہیں اور مزید گہرائی کی ضرورت تو نہیں اور تیسرا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جواب دینے والا کوئی روبوٹ یا دھوکا دہی تو نہیں کر رہا۔

یہ نظام ایک فرانسیسی کمپنی نارٹس نے بنایا ہے جس کے بانی 28 سالہ انجینیئر پیئر فونٹین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی سیاسی رائے شماری میں اے آئی استعمال کرنے والی پہلی کمپنیوں میں سے ہے۔

سروے کا نیا طریقہ

روایتی طور پر رائے عامہ کے سروے بہت وقت طلب اور مہنگے ہوتے ہیں لیکن نارٹس نے اس عمل کو بدل دیا ہے۔ اب لوگ اے آئی کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں صرف سوالات کے جواب نہیں دیتے۔

مزید پڑھیے: ’میں نے ہر اصول کی خلاف ورزی کی‘، کمپنی کا پورا ڈیٹا بیس ٹھکانے لگانے کے بعد اے آئی ایجنٹ کلاڈ کا اعتراف

فونٹین کے مطابق ہم صرف یہ نہیں جانتے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی رائے کیسے بناتے ہیں اور کب بدلتے ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا نظام روایتی طریقوں کے مقابلے میں10 گنا تیز،10 گنا سستا اور تقریباً 90 فیصد تک درست ہے۔

صنعت میں تبدیلی

دنیا بھر میں پولنگ انڈسٹری پہلے ہی مشکل کا شکار ہے کیونکہ سروے میں لوگوں کی شرکت سنہ 1990 کی دہائی کے 30 فیصد سے کم ہو کر آج 5 فیصد سے بھی نیچے آ چکی ہے۔

اسی وجہ سے اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ کچھ کمپنیاں اب لوگوں کی ویڈیوز کا تجزیہ کرتی ہیں جبکہ کچھ ڈیجیٹل ٹوئنز یعنی حقیقی افراد کے ورچوئل ماڈلز بھی استعمال کر رہی ہیں۔

فائدے اور خطرات

اے آئی پولنگ کے کچھ بڑے فائدے ہیں جن میں تیز اور کم خرچ نتائج زیادہ کھلے اور سچے جوابات (کیونکہ لوگ مشین سے زیادہ ایماندار ہو سکتے ہیں) اور مشکل یا کم دستیاب گروپس تک رسائی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی اے چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ

لیکن اس کے خطرات بھی موجود ہیں کیوں کہ اے آئی بعض اوقات غلط یا فرضی معلومات بنا سکتا ہے اور یہ جوابات کو عام یا سطحی بھی بنا سکتا ہے۔ اگر ڈیٹا مصنوعی ہو تو اصل عوامی رائے کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر جواب انسان نے نہ دیا ہو بلکہ اے آئی نے بنایا ہو تو کیا وہ واقعی عوامی رائے شمار ہوگی؟

مستقبل کیا ہوگا؟

ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل طور پر اے آئی پر انحصار ممکن نہیں ہوگا۔ مستقبل میں ایک ہائبرڈ نظام زیادہ ممکن ہے جس میں انسان اور اے آئی دونوں مل کر کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: چیٹ بوٹس کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کی تلاش، وجہ کیا ہے؟

ابھی کے لیے اے آئی پولنگ کو ایک طاقتور ٹول سمجھا جا رہا ہے لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا استعمال شفافیت اور سخت نگرانی کے بغیر خطرناک ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp