امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک امریکا کے قریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جو 2 ہفتے قبل کانگریس کو دیے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے سے بھی زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں:ایلون مسک سمیت کونسی کاروباری شخصیات ٹرمپ کے ہمراہ چین جائیں گی؟
دوسری جانب امریکی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور ان کے بعض مشیر دوبارہ فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ چین روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایرانی معاملے پر چینی صدر سے تفصیلی بات کریں گے، تاہم انہوں نے اس معاملے میں بیجنگ کے کردار کی ضرورت کو کم اہم قرار دیا۔
ادھر امریکی محکمہ توانائی نے پیٹرول کی قیمتوں کا نیا تخمینہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال امریکا میں فی گیلن اوسط قیمت 3.88 ڈالر تک جا سکتی ہے، جو گزشتہ ماہ کے اندازے 3.70 ڈالر سے زیادہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے مہنگائی اور عوامی مالی مشکلات سے متعلق سوال پر کہا،’میں امریکی عوام کی مالی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچتا‘، جس کے بعد امریکا میں سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔














