صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

یہ بیان انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ  2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر دیا۔

جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ دورۂ چین میں ’بڑی کامیابیوں‘ کے لیے پر امید

اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں۔

ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: چین نے ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹرمپ کے 2017 کے بعد پہلے دورۂ چین پر خوش ہیں کیونکہ دنیا ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعے بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے۔

مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں

صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کاروباری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں۔

تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے۔

تاہم ان کا اصرار تھا کہ امریکا کو ایران کے معاملے پر چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ چین ایران کو خلیج میں کشیدگی کم کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے گا۔

امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

مزید پڑھیں:

اب دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں۔

تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp