پاک چین اقتصادی تعلقات میں نئی روح: اربوں ڈالرز کے معاہدے اور مشترکہ اکنامک ہیڈ کوارٹر کا قیام

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات نئی بلندی چھونے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے بھی چین کا 52 رکنی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاکستان میں موجود ہے جس سے اربوں ڈالرز کے نئے معاہدوں کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل، سی پیک تعاون سے معیشت اور ترقی کے نئے در وا

اس دورے کی سب سے اہم پیشرفت پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی تعاون کے لیے ایک مشترکہ اکنامک ہیڈ کوارٹر کے قیام کا اعلان ہے۔

دورے کی تفصیلات اور اہم شعبہ جات

ہائی پروفائل چینی وفد کا یہ دورہ 8 مئی سے 14 مئی تک جاری رہا جس کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں مصروف ترین ملاقاتیں ہوئیں۔

پاک چائنا بزنس کونسل کے مطابق یہ وفد کلیدی شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون پر توجہ مرکوز کرے گا۔

 توانائی اور ٹیکنالوجی

معاشی ماہر سلمان نقوی کے مطابق اس دورے سے سولر انرجی، ٹیلی کام، اور ای کامرس، انجینئرنگ، کیمیکلز، ٹیکسٹائل، اور بلڈنگ مٹیریل۔ الیکٹرک وہیکل، میڈیکل آلات اور صنعتی مشینری جیسے شعبوں میں انقلاب برپا ہوگا۔

 مزید پڑھیے: اسحاق ڈار کا دورہ چین، خطے میں امن اور سی پیک 2.0 پر اہم بات چیت

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان شعبوں میں سپلائی چین سے ہوا کرتی تھی لیکن اب براہ راست پاکستان میں سرمایہ کاری کے معاہدوں سے پاکستان میں ان جدید شعبوں کو نئی جہت ملے گی ساتھ ہی روزگار کے مواقع ملیں گے اور معاشی صورت حال میں بہتری کا امکان ہے۔

تجارتی سرگرمیاں اور ملاقاتیں

معاشی ماہر محمد حمزہ گیلانی کے مطابق وفد کی سرگرمیوں کو آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکنامی پروگرام کے تحت منظم کیا گیا ہے۔ اس دورے کے دوران  چینی سرمایہ کار پاکستانی نجی شعبے کے ساتھ براہ راست کاروباری معاہدے کریں گے۔

وفاقی دارالحکومت میں حکومتی سطح پر اہم مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

چائنیز وفد نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس سمیت کراچی، لاہور اور اسلام آباد چیمبرز کے عہدیداران سے ملاقاتیں کیں ہیں  تاکہ مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھا جا سکے۔

معاشی ماہر جنید خان اس دورے کو پاکستان کی ڈوبتی معیشت کے لیے ایک لائف لائن قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کے تجربات سے پاکستان معاشی اور زرعی انقلاب لا سکتا ہے، سی پیک 2.0 کو کامیاب بنائیں گے: وزیراعظم شہباز شریف

ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ اکنامک ہیڈ کوارٹر کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ اب سی پیک صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ صنعتی منتقلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چین اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کرنے میں سنجیدہ ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کی اہمیت

پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر طفیل احمد خان  کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ای کامرس اور ٹیلی کام میں چینی سرمایہ کاری سے پاکستان میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی برآمدات میں ڈیجیٹل سروسز کا حصہ بڑھے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ان معاہدوں کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو سیاسی استحکام اور سرمایہ کاروں کے لیے پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: پاک چین آہنی دوستی نئی بلندیوں کی جانب، سی پیک کے نئے مرحلے کا آغاز

یہ 52 رکنی وفد محض ایک روایتی دورہ نہیں بلکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں اور سولر انرجی جیسے شعبوں میں تعاون سے نہ صرف پاکستان کا درآمدی بل کم ہوگا بلکہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ممکن ہو سکے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp