عالمی ادارہ صحت کی تصدیق: کروز شپ پر ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ میں 8 افراد متاثر، 3 ہلاک

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس پر ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جس میں 8 افراد میں اینڈیز وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ اس وائرس کی وہ واحد قسم ہے جو انسانوں کے درمیان منتقل ہوسکتی ہے۔

کروز شپ کے یکم اپریل کو ارجنٹائن سے روانہ ہونے کے بعد سے اب تک جہاز پر موجود 3 افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 2 میں اینڈیز وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تیسرے کو ممکنہ کیس قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پرتعیش بحری جہاز کا سیاحتی سفر مہلک ہنٹا وائرس کا شکار ہوکر سانحے میں تبدیل کیسے ہوا؟

مجموعی طور پر 8 کیسز کی لیبارٹری سے تصدیق ہوچکی ہے، 2 کیسز ممکنہ ہیں، جبکہ ایک امریکی مسافر کا ٹیسٹ غیر حتمی ہے جس کی مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

عام طور پر ہینٹا وائرس متاثرہ چوہوں کے فضلے، پیشاب اور تھوک سے پھیلتا ہے۔ فی الحال اس نایاب بیماری کے لیے نہ تو کوئی ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ اس وبا کے تمام کیسز صرف اسی کروز شپ پر موجود افراد تک محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بحرِ اوقیانوس میں کروز شپ پر ہنٹا وائرس کا شبہ، 3 مسافر ہلاک

وائرس کے پھیلاؤ کی اصل وجہ تاحال نامعلوم ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ پہلی انفیکشن بحری سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ہوچکی تھی۔

 اس کا اندازہ اس بات سے لگایا گیا ہے کہ پہلا مریض (ایک 70 سالہ ڈچ شہری) 6 اپریل کو بیمار ہوا، جبکہ اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے اس وبا سے لاحق خطرے کو جہاز پر موجود افراد کے لیے ’متوسط‘ جبکہ باقی دنیا کے لیے ’کم‘ قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp