جدید کاریں اب صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ کمپیوٹرز پر مشتمل ہیں جو ہر لمحے آپ کی زندگی کے بارے میں وسیع معلومات جمع کر رہی ہیں۔ آپ کے مقام، گاڑی میں موجود افراد، ریڈیو اسٹیشن، رفتار، بریک لگانے کے انداز اور یہاں تک کہ آپ کا وزن، عمر، نسل اور چہرے کے تاثرات بھی ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لنکڈ ان آپ کے براؤزر ایکسٹینشنز کی جاسوسی کر رہا ہے، کیا یہ نگرانی قانونی ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بعض کاریں اندرونی کیمرے کے ذریعے ڈرائیور کی حرکات پر بھی نظر رکھتی ہیں۔
یہ نجی معلومات اکثر انشورنس کمپنیوں تک پہنچتی ہیں جو اس ڈیٹا کی بنیاد پر بعض افراد سے زیادہ پریمیم وصول کرتی ہیں۔ کچھ کار کمپنیاں یہ ڈیٹا بیچتی بھی ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ کون خریدار ہے اور ڈیٹا کہاں جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کاریں انسانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو لمحہ بہ لمحہ ریکارڈ کر سکتی ہیں۔
قریباً تمام نئی گاڑیاں انٹرنیٹ سے جڑی ہوتی ہیں اور موبائل فون یا ڈرائیونگ ایپس کے ذریعے بھی ڈیٹا جمع کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: چین کے لیے جاسوسی: برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کے شوہر سمیت 3 افراد گرفتار
سنہ 2023 کی ایک رپورٹ میں 25 کار برانڈز کی پرائیویسی پالیسیوں کا تجزیہ کیا گیا جس میں یہ سامنے آیا کہ تمام برانڈز صارف کی پرائیویسی کے معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
امریکا میں جلد ایک وفاقی قانون نافذ ہوگا جس کے تحت کاریں الکوحل یا تھکن کے شکار ڈرائیور کی نگرانی کے لیے اضافی سینسرز اور انفراریڈ کیمرے نصب کریں گی مگر اس ڈیٹا کے استعمال یا شیئرنگ پر کوئی سخت قواعد موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنا ڈیٹا کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں جیسے انشورنس ٹیلی میٹریک پروگرام میں شامل نہ ہونا، ڈیٹا کی کاپی مانگنا اور شیئرنگ سے انکار کرنا، یا کار کی انفوٹینمنٹ سسٹم میں پرائیویسی سیٹنگز کو ایڈجسٹ کرنا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارتی حاضر سروس فوجی افسر کو پشاور سے گرفتار کرلیا، جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب
اگرچہ اس میں سہولت اور حفاظت کے فوائد بھی موجود ہیں لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب تک صارفین کا ڈیٹا مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں نہیں آئے گا کاریں اور آٹو انڈسٹری مسلسل نجی معلومات جمع کرتی رہیں گی اور پرائیویسی کے مسائل بڑھتے رہیں گے۔














