روس نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے وہاں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور منشیات کی بڑھتی ہوئی پیداوار پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس خطے کی سیکیورٹی کے لیے خطرات، روس کا انتباہ
روسی خبر رساں ادارے تاس اور افغان میڈیا آؤٹ لیٹ آماج نیوز کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکیورٹی کونسل سیکریٹریز کے 21 ویں اجلاس کے دوران سرگئی شوئیگو نے افغانستان کی صورتحال کو رکن ممالک کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دے دیا ہے۔
روسی سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد گروہوں سے وابستہ 18 سے 23 ہزار کے قریب جنگجو سرگرم ہیں، جن میں داعش کے تقریباً 3000 دہشتگرد بھی شامل ہیں۔
Russian Security Council Secretary Sergei Shoigu says between 18,000 and 23,000 militants affiliated with more than 20 terrorist groups are currently active in Afghanistan.
Speaking on Thursday at the 21st Meeting of the Secretaries of the Shanghai Cooperation Organization… pic.twitter.com/hQ3SupC14h
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) May 14, 2026
انہوں نے خاص طور پر شام سے ایغور، تاجک اور ازبک عسکریت پسندوں کی افغانستان منتقلی اور وہاں انتہا پسند انفراسٹرکچر کی توسیع پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان میں سے بیشتر عسکریت پسند ماضی میں تحریر الشام جیسے گروہوں سے وابستہ رہے ہیں۔
دہشتگردی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں مصنوعی منشیات بالخصوص میتھ فیٹامائن (آئس) کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور سرحد پار اسمگلنگ کو بھی علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر روس کی وارننگ
اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2025 میں افغانستان کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدوں پر 30 ٹن سے زائد میتھ فیٹامائن قبضے میں لی گئی، جبکہ ابتر معاشی حالات کے باعث تقریباً 40 لاکھ افراد اب بھی منشیات کی کاشت سے وابستہ ہیں۔
ماسکو کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان کے انسداد دہشتگردی کے دعوؤں کے باوجود روس سمجھتا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی عسکریت پسند نیٹ ورکس سے وابستہ سیکیورٹی خطرات اب بھی موجود ہیں، جن کے اثرات وسطی ایشیا اور پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔














