غزہ پالیسی پر تنقید کرنے والی فرانچیسکا البانیز کے حق میں امریکی عدالت کا فیصلہ

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی ایک عدالت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ماہر پر گزشتہ سال عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف عارضی حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

فرانچیسکا البانیز پر جولائی 2025 میں اس وقت پابندیاں عائد کی گئی تھیں جب انہوں نے غزہ سے متعلق واشنگٹن کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی ماہر کی امریکا پر تنقید کو شدید ہدفِ تنقید بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی ماہر فرانچیسکا البانیز کو امریکی پابندیوں کا سامنا، اسرائیلی مظالم کی نشاندہی ’جرم‘ ٹھہری

انہوں نے کہا تھا کہ البانیز نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو سفارش کی تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔

اطالوی نژاد فرانچیسکا البانیز، جنہوں نے 2022 میں اپنا عہدہ سنبھالا، اسرائیل اور اس کے بعض اتحادیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرتی رہی ہیں۔

وہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

بدھ کے روز امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون نے اپنے عدالتی حکم میں پابندیوں کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کیا۔

جج رچرڈ لیون نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ ہمیشہ عوامی مفاد میں ہوتا ہے۔

پابندیوں کو اپنے مشن کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دینے والی فرانچیسکا البانیز نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: 100 سے زائد عالمی فنکاروں کا فرانچسکا البانیز کی حمایت میں کھلا خط

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ بیٹی اور شوہر کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ان کا دفاع کیا۔

  ‘۔۔۔ان تمام افراد کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اب تک مدد کی۔ ہم سب ایک ہیں۔’

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندے آزاد ماہرین ہوتے ہیں، جنہیں کونسل مقرر کرتی ہے، تاہم وہ براہِ راست اقوام متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp