امریکی خلائی ادارے ناسا کا سائیکی مشن جمعہ کو مریخ کے انتہائی قریب سے گزرا ہے، جہاں خلائی گاڑی کو مریخ کی کششِ ثقل سے اضافی رفتار ملنے کی امید ہے۔
مریخ کے انتہائی قریب سے گزرنا اس لیے ترتیب دیا گیا تاکہ مشن اپنے حتمی ہدف، نظامِ شمسی کے سب سے بڑے معلوم دھاتی سیارچے ‘سائیکی’ کی جانب روانہ ہو سکے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ سیارچہ کسی قدیم ابتدائی سیارے کے باقی ماندہ مرکز کا حصہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریخ مشن: ناسا کے خلائی جہاز نے چپ سادھ لی، وجہ سمجھ سے باہر
سائیکی پروب، جس کا نام اسی سیارچے پر رکھا گیا ہے جس کا یہ مطالعہ کرے گا، اکتوبر 2023 میں لانچ کیا گیا تھا۔
یہ خلائی گاڑی تقریباً 2.2 ارب میل کے سفر پر روانہ ہوئی تھی اور توقع ہے کہ یہ تقریباً 3 برس بعد مریخ اور مشتری کے درمیان واقع مرکزی سیارچوی پٹی کے بیرونی حصے میں اپنے ہدف تک پہنچ جائے گی۔
ناسا کے مطابق جمعہ کو یہ خلائی جہاز تقریباً 12 ہزار 333 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مریخ کے صرف 2 ہزار 800 میل قریب سے گزرے گا۔
🚀 NASA’s Spacecraft Just Flew Past Mars at 12,333 MPH… But Its Real Target Is Even Stranger
NASA’s Psyche spacecraft just used Mars like a giant space slingshot, speeding past the planet at over 12,333 miles per hour on its journey to a mysterious metal asteroid called 16… pic.twitter.com/azzeWGLrvb
— SciTech Girl (@scitechgirl) May 15, 2026
اس دوران مریخ کی کششِ ثقل خلائی گاڑی کی رفتار بڑھانے اور اس کا رخ درست کرنے میں مدد دے گی۔
سائیکی مشن کے فلائٹ پلان میں مریخ کے قریب سے گزرنے کا مرحلہ اس لیے شامل کیا گیا تھا تاکہ خلائی گاڑی کے سولرالیکٹرک آئن تھرسٹر سسٹم میں استعمال ہونے والی زینون گیس کی بچت کی جا سکے۔
یہ ٹیکنالوجی پہلی بار کسی بین السیاراتی مشن میں استعمال کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ناسا آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے سفر کے راز ٹی وی شو میں بیان کر دیے
مشن ٹیم مریخ کے اس قریبی مشاہدے کو سائنسی آلات کی جانچ اور کیلیبریشن کے لیے بھی استعمال کرے گی، جن میں مختلف روشنی کی لہروں میں تصاویر لینے والے خصوصی کیمرے شامل ہیں۔
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کی مشن پلاننگ چیف سارا بیراسٹو کا کہنا ہے کہ وہ اب فلائی بائی کے لیے بالکل درست راستے پر ہیں۔”
ایک چھوٹی وین کے سائز کے برابر یہ خلائی جہاز اگست 2029 میں اپنے ہدف تک پہنچنے کی توقع رکھتا ہے، جہاں یہ 26 ماہ تک سیارچے کے گرد چکر لگاتے ہوئے اس کی کششِ ثقل، مقناطیسی خصوصیات اور ساخت کا مطالعہ کرے گا۔
مزید پڑھیں: ناسا کا دلچسپ ٹول: جنگلات، پہاڑوں پر اپنا نام لکھا دیکھیں
بعد ازاں خلائی جہاز بتدریج سیارچے کے مزید قریب جاتا رہے گا اور 2031 میں مشن اختتام پذیر ہو جائے گا۔
سائیکی پہلا ایسا دھاتی سیارچہ ہے جسے کسی خلائی مشن کے ذریعے قریب سے جانچنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ زیادہ تر لوہے، نکل، سونے اور دیگر دھاتوں پر مشتمل ہو سکتا ہے، جبکہ اس کی ممکنہ مجموعی مالیت کا تخمینہ 10 کوآڈریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔














