13 مئی کو بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریا ہوسابلے نے اپنے ایک انٹرویو میں بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا غیر متوقع مشورہ دیا ہے۔
اس سے قبل بھارت میں ایسے لوگ جو بی جے پی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی نہیں کرتے خواہ وہ شیو شنکر مینن ہوں، پراوین ساہنی یا دیگر وہ بھارتی حکومت کو اپنے تنقیدی مضامین یا پوڈ کاسٹ میں بھارت کی سفارتی پالیسی کواِس وقت بالکل ناکام سفارتی پالیسی سے تعبیر کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مذاکراتی عمل میں شاندار رہا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہترین شخصیات ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ان کے مطابق بھارت کو اپنی ناکام سفارتی پالیسی پر نظر ثانی کی شدید ضرورت ہے، لیکن جنگی جنون میں مبتلا حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے انتخابی فوائد کے لیے ہر اس آواز کا گلا گھونٹتی ہے جو انہیں حقیقت سے روشناس کرائے۔
فالس فلیگ پہلگام سے جنم لیتی بھارت کی سفارتی تنہائی
22 اپریل 2025 کو امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اس وقت بھارت میں موجود تھے جب بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا، لیکن حیران کن طور دنیا کے
کسی ملک نے بھارتی مؤقف کی تائید نہیں۔ دنیا کے بڑے اور اہم ممالک نے پہلگام واقعے کی مذمت تو کی لیکن بھارت کی یہ خواہش کہ اس واقعے میں پاکستان کی مذمت کی جائے، ایسا کسی بھی ملک نے نہیں کیا۔

دوسری طرف بھارت نے جب آپریشن سندور کے نام سے جب پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان کا ساتھ چین، ترکیہ اور آذربائیجان نے دیا جبکہ بھارت کے ساتھ اسرائیل کے سوا کوئی دوسرا ملک کھڑا نہیں ہوا۔
فوجی کشیدگی کے بعد جب 10 مئی 2025 کو جنگ بندی ہوئی تو اُس کے بعد بھارت نے دنیا بھر کے ممالک میں بھارت کا مؤقف پہنچانے کے لیے سفارتی وفود بھیجے لیکن ان وفود کو بھی کہیں سے کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: عالمی تنہائی کی خفت مٹانے کے لیے بھارت کے ناکام سفارتی حربے
دنیا بھر کے تجزیہ نگار اِس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح پاکستان متصادم مفادات کے حامل ملکوں کے درمیان ایک یکساں اور دوستانہ حیثیت کا حامل ملک ہے، مثال کے طور پر پاکستان کے تعلقات نہ صرف امریکا کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں بلکہ چین کے ساتھ بھی۔
پاکستان عرب ممالک کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات رکھتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایران بھی مذاکرات کے لیے صرف پاکستان پر اعتماد کرتا ہے۔

ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک نے پاکستان سربراہان کو فون کیے اور اپنی حمایت کا یقین دلایا جو پاکستان کی اہمیت کے حوالے سے ایک بہت بڑا قدم تھا۔
لیکن عالمی سفارتی معاملات میں پاکستان کے اس تاریخی کردار کی اہمیت کی وجوہات کیا ہیں اور اس ضمن میں بھارت کیوں ناکام رہا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جنوبی اور مغربی ایشیائی سیاست کا محور، پاکستان
عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں روایتی طاقت کا توازن ٹوٹ رہا ہے اور طاقت کے نسبتاً چھوٹے مراکز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں اس تبدیلی کا سب سے نمایاں محور پاکستان اور بھارت ہیں۔
عمومی بیانیہ اکثر بھارت کی معاشی وسعت اور مارکیٹ سائز کو اس کی سفارتی برتری سے جوڑتا ہے، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس کچھ ایسے ساختی اور جیو اسٹریٹیجک عوامل موجودہیں جو اسے عالمی سفارت کاری میں ایک منفرد اور بعض حالات میں زیادہ ‘کارآمد ریاست’ یا تزویراتی اعتبار سے زیادہ کارآمد ریاست بناتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ہم اِس وقت اِس طرح سے دیکھ رہے ہیں جب پاکستان ایران امریکا کی جنگ میں ایک ثالث کا کردار نبھا رہا ہے اور بھارت اس ساری صورتحال میں کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات سے پاکستان کا قد کاٹھ بڑھ گیا، مسعود خان
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق، طاقت صرف جی ڈی پی یا فوجی حجم سے نہیں ناپی جاتی بلکہ جیو پولیٹیکل یوٹیلٹی یعنی کسی ریاست کی عالمی بحرانوں میں افادیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔
بھارت کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی اور سابق سفارت کار شِو شنکر مینن نے اپنے تجزیوں میں بارہا اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن اور خطے کی پیچیدہ سیاست کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے لیے ایک ‘ریلونٹ انٹرلوکیوٹر’ یعنی اہم رابطہ کار ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستانی جغرافیے کی اہمیت
پاکستان کی سب سے بڑی اہمیت اس کا جغرافیہ ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہے، گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک نے اس اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سال 2025 اور 2026 کے دوران جب امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی دوبارہ خطے کو غیر مستحکم کر رہی ہے، پاکستان ایک ایسی ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے جو خلیج، ایران اور چین کے درمیان مواصلاتی اور سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی نئی پیشکش پر ٹرمپ غیر مطمئن، پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے جاری
امریکی اور یورپی تھنک ٹینکس، خصوصاً کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے تجزیے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے ‘کریٹیکل کنیکٹراسٹیٹ’ بناتی ہے جو توانائی اور سیکیورٹی دونوں لحاظ سے ناگزیر ہے۔
چین کے ساتھ دوستی
پاکستان اور چین کا تعلق محض دوطرفہ شراکت نہیں بلکہ ایک تزویراتی اتحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
بھارت کے برعکس، جہاں چین کے ساتھ سرحدی تنازعات اور اسٹریٹیجک کشیدگی موجود ہے، پاکستان چین کے لیے ایک قابلِ اعتماد زمینی اور سمندری راستہ فراہم کرتا ہے، عالمی تجزیہ کارجرمن مارشل فنڈ کے اینڈریو سما کے مطابق پاکستان چین کی مغربی پالیسی میں ناگزیر کوریڈور سٹیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ تعلق پاکستان کو نہ صرف معاشی بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک مضبوط بیکنگ فراہم کرتا ہے، جو عالمی مذاکرات میں اس کی پوزیشن کو غیر معمولی طور پر مضبوط بناتا ہے۔
مسلم دنیا میں سفارتی اثر و رسوخ
پاکستان کو اسلامی دنیا میں ایک منفرد علامتی حیثیت حاصل ہے۔ او آئی سی میں پاکستان اکثر فلسطین، کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے مسائل پر اجتماعی موقف بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس سال اور گزشتہ برس کے دوران غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے مسلم دنیا میں سفارتی ہم آہنگی کو دوبارہ مرکزی حیثیت دی ہے۔

پاکستان کی جانب سے فلسطین کے مسئلے پر مسلسل اصولی موقف نے اسے عرب ریاستوں، خصوصاً سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سفارتی قربت دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اداروں جیسےالجزیرہ اور بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان مسلم دنیا میں مورل ڈپلومیٹک وائس کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو اسے ایک نرم مگر مؤثر سفارتی طاقت بناتا ہے۔
افغانستان اور خطے میں ثالثی کردار
افغانستان کی صورتحال پاکستان کی سفارت کاری کا سب سے اہم لیکن پیچیدہ پہلو ہے۔ 2025 میں افغانستان میں سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں پاکستان ایک اہم زمینی اور سفارتی راستہ ہے۔ امریکی اور روسی دونوں تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے استحکام کے لیے پاکستان کی شمولیت ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور
سابق امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی متعدد مواقع پر کہا ہے کہ افغانستان کے امن کے لیے پاکستان ایک مرکزی اسٹیک ہولڈر ہے۔
یہ کردار پاکستان کو ایک علاقائی ثالث کی حیثیت دیتا ہے، جو بھارت کے مقابلے میں ایک مختلف نوعیت کی سفارتی اہمیت ہے، جس میں پاکستان براہ راست سیکیورٹی اور رسائی دونوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکا اور ایران کے مابین جنگ اور پاکستان کی متوازن سفارتکاری
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد خطہ شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی متوازن سفارتکاری اہمیت اختیار کر گئی ہے، پاکستان نہ صرف امریکا کا انسداد دہشت گردی تعاون کا شراکت دار ہے بلکہ ایران کے ساتھ بھی اس کی طویل سرحد اور توانائی و تجارت کے روابط موجود ہیں۔
یہی دوہرا تعلق پاکستان کو ایک پوٹینشل بیک چینل ریاست بناتا ہے، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے ممالک جو متحارب بلاکس کے درمیان رابطہ رکھ سکتے ہیں وہ ‘اسٹریٹجک سونگ اسٹیٹ’ کہلاتے ہیں اور پاکستان اس کی ایک واضح مثال ہے۔
مزید پڑھیں: امن مذاکرات میں پیشرفت: ایران نے امریکا کے لیے نیا پروپوزل پاکستان کے حوالے کردیا
خلیجی ممالک کے ساتھ گہرا تعلق
پاکستان کے لاکھوں شہری خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں، جو نہ صرف ترسیلات زر کا بڑا ذریعہ ہیں بلکہ سفارتی روابط کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ پاکستان کے دفاعی، معاشی اور افرادی تعلقات اسے ایک خاص مقام دیتے ہیں، بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی خلیجی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹیجک سیکیورٹی تعاون زیادہ تاریخی اور ادارہ جاتی ہے۔

انٹرنیشل کرائسس گروپ کے مطابق پاکستان کی خلیجی ریاستوں میں موجود انسانی سرمایہ اسے ‘پپیل ٹو پیپل ڈپلومیٹک لیوریج’ فراہم کرتا ہے جو جدید سفارتکاری میں انتہائی اہم ہے۔
دفاعی صلاحیت اور ڈیٹرنس
پاکستان کی جوہری صلاحیت اسے ایک ڈیٹرنس بیسڈ ڈپلومیٹک ایکٹر بناتی ہے۔ بین الاقوامی نظام میں ایسے ممالک جن کے پاس کریڈیبل ڈیٹرنس ہوتی ہے، انہیں علاقائی تنازعات میں زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں، مگر پاکستان کی اسٹریٹیجک پوزیشن اسے جنوبی ایشیا میں ‘کرائسس اسٹیبلٹی بروکر’ کے طور پر پیش کرتی ہے، کیونکہ بڑے تنازعات میں عالمی طاقتیں براہ راست جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتی ہیں۔
بھارت کے مقابلے میں سفارتی فرق
اگرچہ بھارت کی معیشت بڑی اور عالمی منڈیوں میں اس کا اثر وسیع ہے، مگر اس کی سفارت کاری اکثر معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی سفارت کاری زیادہ سیکیورٹی اوررابطہ کاری پر مرکوز ہوتی ہے۔ بھارت کی بڑی معیشت اسے عالمی فورمز پر آواز دیتی ہے لیکن بعض علاقائی تنازعات خصوصاً چین اور پاکستان کے ساتھ اس کی سفارتکاری محدود ہے۔ اس کے برعکس پاکستان بحرانوں میں زیادہ لچکدار ڈپلومیسی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کا مجموعی تجزیہ
بین الاقوامی تعلقات کے کئی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی سفارتی اہمیت اس کے حجم سے زیادہ ہے۔ بھارتی سابق سفارت کار شیو شنکر مینن کے الفاظ میں چھوٹے اور درمیانے ریاستی اداکار اکثر عالمی طاقتوں کے لیے زیادہ اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ ‘کرائسس کنیکٹر’ کا کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطین پر پاکستان کا اصولی مؤقف اور ابھرتا ہوا سفارتی کردار
کارنیگی انڈاؤمنٹ کے تجزیے کے مطابق پاکستان خطے میں زیادہ مؤثر لیکن زیادہ رسکی اسٹیٹ ہے، جس کی وجہ سے اسے مسلسل سفارتی توجہ ملتی ہے۔
بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان کا کردارخاص طور پر افغانستان اور خلیج کے تناظر میں ‘سیکیورٹی اسٹیبلائزر’ کے طور پر برقرار ہے۔

پاکستان کی سفارتی برتری کو محض روایتی طاقت کے پیمانوں سے نہیں سمجھا جا سکتا، یہ ایک ایسی ریاست ہے جو بیک وقت چین، امریکا، خلیج، ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک نازک مگر اہم توازن قائم رکھتی ہے۔
موجودہ عالمی تناظر میں جب دنیا دوبارہ بلاکس اور کشیدگی کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی جیو پولیٹکل ریلیوینس ہے، جس کے ذریعے وہ مختلف طاقتوں کے درمیان رابطہ، توازن اور بحرانوں میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔












