گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کے لیے کون سے منصوبے زیر غور ہیں؟

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے ملک میں آٹو انڈسٹری کو فروغ دینے اور عوام کے لیے گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کے لیے نئی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026–31 کے تحت اہم اصلاحات متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت عوام کو 7 سالہ آسان اقساط پر گاڑیاں فراہم کرنے، کم ڈاؤن پیمنٹ اور زیادہ قرض کی سہولت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کی نئی آٹو پالیسی 2031: اب آسان قرض پر سستی گاڑیاں ملیں گی

ذرائع کے مطابق حکومت کا بنیادی مقصد گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی، مقامی آٹو انڈسٹری کی ترقی، گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ اور عوام کیلئے بینک فنانسنگ کو آسان بنانا ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں اور آٹو سیکٹر سے مشاورت جاری ہے۔

پالیسی کے تحت کار فنانسنگ کی مدت موجودہ مدت سے بڑھا کر 7 سال تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ متوسط طبقہ بھی آسان ماہانہ اقساط پر گاڑی خرید سکے۔ اس کے ساتھ گاڑی خریدنے کے لیے ابتدائی ادائیگی (ڈاؤن پیمنٹ) کو کم کر کے صرف 15 فیصد تک لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کے لیے قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے شہری مہنگی گاڑیوں کی خریداری کے لیے بھی بینک فنانسنگ حاصل کر سکیں گے۔

حکومت نے گاڑی خریدنے والوں کو کمپنیوں کی من مانی اور اضافی قیمتوں سے بچانے کے لیے سخت اقدامات تجویز کیے ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق گاڑی بک کرواتے وقت اس کی قیمت فکس کر دی جائے گی تاکہ بعد میں قیمت میں اضافہ نہ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑیوں کی فروخت میں رواں برس اب تک 18 فیصد کا اضافہ؛ وجہ کیا ہے؟

اسی طرح اگر آٹو کمپنی 30 دن کے اندر گاڑی فراہم نہ کر سکی تو اسے خریدار کو KIBOR + 3 فیصد کے حساب سے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ مزید یہ کہ کمپنی بکنگ کے وقت گاڑی کی کل قیمت کا صرف 20 فیصد وصول کر سکے گی تاکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔

پالیسی میں استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے نظام کو بھی ریگولیٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت 2030 تک ٹیرف پریمیم کو موجودہ 40 فیصد سے کم کر کے صفر تک لانے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ گاڑیوں کے پرزہ جات (CKD) پر عائد ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ درآمدی ڈیوٹی اور پرزہ جات پر ٹیکس کم ہونے سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی لاگت کم ہوگی، جس کا فائدہ براہِ راست صارفین کو سستی گاڑیوں کی صورت میں مل سکے گا۔

مجوزہ پالیسی میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2031 تک پاکستان کی سڑکوں پر چلنے والی 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک یا نیو انرجی وہیکلز (NEVs) ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:بڑی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی آدھی اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھ گیا، ’عام آدمی کیا کرے‘

اس مقصد کے لیے ملک بھر میں 3 ہزار الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو آسان بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس مکمل طور پر فری رکھنے جبکہ موٹرویز اور شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں رعایت دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ شہری زیادہ سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب ہوں۔

حکومت نے نئی پالیسی کے ذریعے سالانہ گاڑیوں کی پیداوار 5 لاکھ یونٹس سے تجاوز کرانے، گاڑیوں کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے اور مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری کو فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ ہو گئی تو نہ صرف پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو بڑا فروغ ملے گا بلکہ عوام کو بھی سستی اور آسان اقساط پر گاڑیاں خریدنے کا موقع مل سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp