فلپائن کی پارلیمنٹ میں اس وقت ہنگامہ آرائی پھیل گئی جب انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو مطلوب سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سینیٹ کی عمارت میں پناہ لے لی۔ اس دوران پارلیمنٹ کے اندر فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں، جس سے افراتفری پھیل گئی۔
The latest chapter in the Philippines' dynastic political drama ended in chaos on Wednesday night, as dozens of gunshots were fired in the Senate building. Here's how the event unfolded, according to witnesses, politicians and security: https://t.co/a6LYteJMSO
📷: Jam Sta… pic.twitter.com/dsyAVx7snB
— Bloomberg (@business) May 15, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کے قریبی ساتھی اور منشیات کے خلاف متنازع مہم کے مرکزی کردار سمجھے جانے والے سینیٹر رونالڈ ڈیلا روزا کئی روز سے سینیٹ کی عمارت میں چھپے ہوئے تھے۔ آئی سی سی نے ان کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں وارنٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:فلپائن میں کشتی 350 مسافروں سمیت ڈوب گئی، ریسکیو آپریشن جاری
فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب درجنوں صحافی پارلیمنٹ کی دوسری منزل پر موجود تھے۔ اچانک گولیوں کی آوازیں سنائی دیں اور لوگ خوفزدہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ بعد ازاں فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچیں جہاں کھڑکیوں پر گولیوں کے متعدد نشانات پائے گئے۔
فلپائن کے وزیر داخلہ کے مطابق چند نامعلوم مسلح افراد نے سینیٹ کی دوسری منزل میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سارجنٹ ایٹ آرمز کے اہلکار نے وارننگ فائر کیا جس کے بعد مسلح افراد نے بھی فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سینیٹ کے اسپیکر ایلن پیٹر کییٹانو نے بعد میں تصدیق کی کہ رونالڈ ڈیلا روزا پارلیمنٹ کی عمارت سے فرار ہو چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ نے بھی پیغام کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی۔
آئی سی سی کے مطابق ڈیلا روزا پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق صدر دوتیرتے کے ساتھ مل کر منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران ہزاروں افراد کے قتل میں کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق دوتیرتے کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں تیزی آئی تھی۔

یاد رہے کہ سابق صدر دوتیرتے کو بھی مارچ 2025 میں گرفتار کر کے دی ہیگ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم وہ اور ان کے حامی مسلسل آئی سی سی کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔













