سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ منشیات فروشی ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور بدقسمتی سے ملک میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
مزید پڑھیں: انمول عرف پنکی کیس: پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئیں
کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے منشیات فروشی کے حالیہ معاملے پر کہا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث تھی اور اس کے پیچھے ایک پورا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی فرد یا گروہ کا نام نہیں لینا چاہتے، تاہم یہ مسئلہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منشیات ایک سنگین مسئلہ ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ کئی افراد کے لیے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ منشیات سے متعلق معاملات کو غیر ضروری طور پر گلیمرائز نہ کیا جائے کیونکہ اس لعنت کے باعث روزانہ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ حکومت مختلف بحالی مراکز پر کام کر رہی ہے، تاہم منشیات کی لت ایک بڑا سماجی چیلنج ہے۔
مزید پڑھیں: ’کوکین کوئین‘ انمول پنکی کو 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ کراچی میں ایک منشیات کے عادی نوجوان کی جانب سے اپنے اہلخانہ پر فائرنگ کا واقعہ انتہائی افسوسناک تھا۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں پر خصوصی نظر رکھیں کیونکہ منشیات نوجوانوں کو اس حد تک متاثر کر دیتی ہے کہ وہ کسی کے قابو میں نہیں رہتے۔














