اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اتوار 17 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور مستقل امن کے قیام کے حوالے سے پرامید ہیں۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے روشن ترین لمحات میں سے ایک ہے، اور دنیا پاکستان کو ایک ایماندار ثالث کے طور پر تسلیم کررہی ہے جس پر عالمی قیادت کو مکمل اعتماد حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ

انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کا سنہری وقت ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کی طرح انہیں بھی ایک پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن کا حصول آسان نہیں ہوتا، اس کے لیے صبر، دانشمندی اور مشکل فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک اور مذاکراتی دور کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ دیرپا امن قائم ہو سکے، جبکہ حتمی نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

شہباز شریف نے کہاکہ پاکستان کو یہ اہم کردار اس کی جغرافیائی حیثیت، سفارتی تعلقات اور علاقائی روابط کی وجہ سے ملا ہے۔ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 565 میل طویل سرحد اور آبنائے ہرمز کے قریب بندرگاہیں عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور خطے میں کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں تاریخ میں یاد رکھی جائیں گی۔

انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مسلسل سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت تصادم کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو جنوبی ایشیا ایک بڑی تباہی کا شکار ہو سکتا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بی ایل اے اور دیگر گروہ شامل ہیں۔

انہوں نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کو مجبوری قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے کابل کو بارہا امن کے پیغامات دیے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کو ہمیشہ پڑوسی رہنا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے؟

وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو دہشتگرد گروہوں کے استعمال سے روکا جائے۔

انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں افسوسناک ہیں، اور پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp