ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم: حکومت کن بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے؟

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کی جانب سے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم پر غور نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف اتحادی جماعتیں خصوصاً ایم کیو ایم بلدیاتی نظام اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کو آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کررہی ہیں، تو دوسری جانب وفاق کو درپیش شدید مالی بحران کے باعث این ایف سی ایوارڈ، وسائل کی تقسیم اور مرکز و صوبوں کے اختیارات پر نظرثانی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

حکومتی وزرا اور سینیئر تجزیہ کاروں کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا بنیادی مرکز مالیاتی توازن، بلدیاتی خودمختاری اور 18ویں ترمیم کے بعد پیدا ہونے والے انتظامی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ ہوگا، جبکہ ترمیم تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بعد لانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: کیا 28ویں آئینی ترمیم بجٹ سے قبل پیش ہونے جارہی ہے؟

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم طویل عرصے سے آئین کے آرٹیکل 140 اے میں مزید ترامیم کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے تاکہ بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات اور وسائل منتقل کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہاکہ جس طرح وفاق سے صوبوں کو فنڈز منتقل ہوتے ہیں، اسی طرز پر صوبوں سے اضلاع اور تحصیلوں تک وسائل کی منتقلی کا نظام بھی آئینی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ صرف بلدیاتی نظام ہی نہیں بلکہ آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، دفاعی اخراجات اور پانی کے تنازعات جیسے معاملات بھی زیر غور ہیں، موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، اس لیے وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔

رانا ثنااللہ کے مطابق ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ دفاعی اخراجات کو این ایف سی تقسیم سے پہلے الگ کر دیا جائے اور باقی وسائل صوبوں میں طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیے جائیں تاکہ وفاقی حکومت کو مالی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ ان معاملات پر جب بھی سیاسی اتفاق رائے پیدا ہوا تو اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی اور یہی ممکنہ طور پر 28ویں آئینی ترمیم کی شکل اختیار کرے گی۔

موجودہ علاقائی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث فوری طور پر آئینی ترمیم کا امکان کم ہے، بیرسٹر عقیل ملک

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے تصدیق کی کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے دوران ایم کیو ایم سے وعدہ کیا تھا کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مزید آئینی اصلاحات کی جائیں گی، تاہم اس وقت بعض اتحادیوں خصوصاً پیپلز پارٹی کے تحفظات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔

بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق مجوزہ 28ویں ترمیم میں آرٹیکل 140 اے، این ایف سی ایوارڈ اور تعلیم کے شعبے سے متعلق اصلاحات شامل ہو سکتی ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیاکہ موجودہ علاقائی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث فوری طور پر آئینی ترمیم کا امکان کم ہے کیونکہ حکومت کو پہلے اپنی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

سینیئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ حکومت بنیادی طور پر 18ویں ترمیم کے مالیاتی اثرات کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہتی ہے کیونکہ موجودہ معاشی بحران میں وفاقی حکومت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے جبکہ صوبوں کے پاس وسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دفاعی اخراجات میں اضافے، قرضوں کے بوجھ اور وفاقی سطح پر بڑھتے مالی دباؤ نے مرکز کو کمزور کردیا ہے۔

بی آئی ایس پی صوبوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے، نجم سیٹھی

نجم سیٹھی کے مطابق حکومت مختلف متبادل تجاویز پر غور کر سکتی ہے جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ذمہ داری جس پر وفاق کا 800 ارب روپے تک کا خرچ ہوتا ہے صوبوں کو منتقل کرنا، صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں صوبوں کا حصہ بڑھانا یا صوبوں سے اضافی وسائل واپس وفاق کو دینے جیسے فارمولے شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کو براہ راست تبدیل کیے بغیر بھی مالی بحران کے حل کے لیے درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے، تاہم اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور خصوصاً آصف علی زرداری کا مؤقف ہو سکتا ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 18ویں ترمیم کے مقاصد حاصل ہوئے؟

سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھی جس کے ذریعے 62 سال بعد اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل کیے گئے، تاہم اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا اس ترمیم کے مقاصد حقیقی معنوں میں حاصل ہو سکے؟ 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کے 83 آرٹیکلز میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، لیکن عملی طور پر اختیارات عوام تک منتقل ہونے کے بجائے صرف اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں تک منتقل ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ 16 برسوں میں صحت، تعلیم اور عوامی خدمات کے شعبوں میں وہ بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم پر ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، بلاول بھٹو

ضیغم خان نے کہاکہ وفاق کے مالی مسائل اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں مرکز کو چلانا بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، اور اگر وفاق کمزور ہوگا تو اس کے اثرات صوبوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد بننے والے پورے انتظامی و مالیاتی ڈھانچے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تاکہ اختیارات کی نچلی سطح تک حقیقی منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم