گرین اکانومی اور پاکستان

منگل 19 مئی 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا تیزی سے ایک ایسے معاشی ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ترقی کا پیمانہ صرف شرحِ نمو یا جی ڈی پی نہیں رہا، بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتا ہے کہ معاشی سرگرمیاں ماحول پر کتنا اثر ڈال رہی ہیں، وسائل کتنے پائیدار انداز میں استعمال ہو رہے ہیں اور کاربن اخراج میں کس حد تک کمی لائی جا رہی ہے۔

اس تصور کو آج کی اقتصادی زبان میں گرین اکانومی کہا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ محض ایک ماحولیاتی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ رفتہ رفتہ ایک معاشی مجبوری بنتی جا رہی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ ہم اس راستے پر کتنی پیش رفت کر سکے ہیں، اور کیا یہ ماڈل واقعی ہماری معیشت کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا پھر یہ بھی دیگر پالیسی تصورات کی طرح کاغذی حد تک محدود رہے گا۔

گرین اکانومی بنیادی طور پر ایک ایسا معاشی فریم ورک ہے جس میں معاشی ترقی، سماجی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ساتھ چلایا جاتا ہے۔ اس میں پیداوار اور ترقی کا مقصد صرف شرح نمو بڑھانا نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ترقی کے اس عمل میں قدرتی وسائل پر کتنا دباؤ پڑ رہا ہے، آلودگی کس سطح پر ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے کیا کچھ محفوظ رہ رہا ہے۔

اس تصور کے تحت توانائی، صنعت، زراعت اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی شعبوں کو بتدریج ماحول دوست خطوط پر استوار کیا جاتا ہے، تاکہ ترقی اور ماحول ایک دوسرے کے مخالف نہ رہیں، بلکہ ایک ساتھ آگے بڑھیں۔

اس پورے نظام میں گرین ٹیکنالوجی کو بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے مراد ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جو کم آلودگی پیدا کریں، توانائی کی کھپت کو کم کریں اور قدرتی وسائل کے بہتر استعمال کو ممکن بنائیں۔ سولر انرجی، ونڈ پاور، الیکٹرک گاڑیاں، توانائی بچانے والے آلات اور ویسٹ ٹو انرجی جیسے نظام اسی دائرے میں آتے ہیں۔

دنیا بھر میں صنعتی ترقی کا رجحان اب اسی سمت جا رہا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار کم سے کم ہو اور قابلِ تجدید توانائی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو طویل المدتی معاشی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔

اگر ترقی یافتہ ممالک کی طرف دیکھا جائے تو وہاں گرین اکانومی اب محض ایک پالیسی تصور نہیں رہی، بلکہ ایک مکمل صنعتی نظام بن چکی ہے۔ یورپی ممالک میں کاربن ٹیکس اور ماحول دوست توانائی کے اہداف نے کاروباری ماڈلز کو تبدیل کر دیا ہے۔

چین آج دنیا کا سب سے بڑا سولر اور ونڈ انرجی پروڈیوسر ہے، جبکہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ معیشتیں الیکٹرک گاڑیوں اور کلین انرجی انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ان ممالک میں گرین اکانومی اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتی مسابقت کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں امکانات کی کمی نہیں۔ ملک میں سال بھر سورج کی موجودگی، ہوا کے موزوں کوریڈورز، اور ایک بڑی زرعی معیشت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر درست سمت اختیار کی جائے تو گرین اکانومی ایک مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔

خاص طور پر سولر انرجی کے شعبے میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں لوگ متبادل توانائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر اس رجحان کو ایک مربوط صنعتی پالیسی اور مقامی سطح پر پیداوار کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پاکستان توانائی کے بحران پر بڑی حد تک قابو پا سکتا ہے۔

اسی طرح روزگار کے حوالے سے بھی یہ شعبہ غیر معمولی امکانات رکھتا ہے۔ سولر ٹیکنیشنز، ونڈ انرجی انجینئرز، الیکٹرک گاڑیوں کے مکینکس، ری سائیکلنگ انڈسٹری کے ماہرین اور انرجی آڈیٹرز جیسے نئے پیشے تیزی سے ابھر رہے ہیں۔

اگر ملک میں اس سمت میں منظم تربیت اور مہارت سازی کا نظام قائم کیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب روایتی صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اس پورے نظام کے لیے انسانی وسائل کی تیاری ابھی ابتدائی سطح پر ہے۔ تکنیکی تعلیم اور ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان صرف روایتی ڈگریوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی مہارتیں بھی حاصل کر سکیں۔

اسی کے ساتھ عوامی آگاہی بھی ایک اہم عنصر ہے کیونکہ توانائی کے مؤثر استعمال اور ماحول دوست رویے کسی بھی پالیسی کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت گرین اکانومی کے ابتدائی اور غیر منظم مرحلے میں کھڑا ہے۔ کچھ مثبت پیش رفت ضرور ہے، خاص طور پر سولر انرجی کے پھیلاؤ کی صورت میں، لیکن مجموعی نظام ابھی تک پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے۔

ویسٹ مینجمنٹ، صنعتی آلودگی اور بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے ابھی تک اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے جس کی ضرورت ہے۔

اصل چیلنج یہی ہے کہ مالی وسائل کی کمی، جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور ادارہ جاتی کمزوریوں کو کیسے دور کیا جائے۔ اس کے بغیر کوئی بھی گرین اکانومی ماڈل محض ایک تصور ہی رہے گا۔

اس کے لیے ایک واضح اور طویل المدتی قومی حکمت عملی ناگزیر ہے، جس میں کاربن اخراج کی نگرانی، ری سائیکلنگ کا نظام، مقامی سطح پر گرین ٹیکنالوجی کی پیداوار اور الیکٹرک گاڑیوں اور سولر انڈسٹری کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا شامل ہو۔

حکومت کا کردار بنیادی طور پر پالیسی سازی، ریگولیشن اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا کرنا ہوگا۔ دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر کے بغیر یہ سفر ممکن نہیں، کیونکہ سرمایہ، ٹیکنالوجی اور جدت زیادہ تر وہیں سے آتی ہے۔ اگر دونوں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت چلیں تو پاکستان میں یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔

عام شہری بھی اس تبدیلی کا ایک اہم حصہ ہے۔ توانائی کے غیر ضروری استعمال میں کمی، ری سائیکلنگ کی عادت، اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا مجموعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ کسی بھی معاشی تبدیلی کی کامیابی صرف ریاستی پالیسی پر نہیں بلکہ عوامی رویوں پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

اگر یہ راستہ درست طریقے سے اختیار کیا جائے تو اس کے معاشی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی آئے گی، نئی صنعتیں وجود میں آئیں گی، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور ماحولیاتی دباؤ بھی کم ہوگا۔ لیکن اگر اس سمت میں تاخیر یا غیر سنجیدگی برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف معاشی بلکہ ماحولیاتی طور پر بھی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم گرین اکانومی کو ایک عملی معاشی ماڈل کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہیں یا اسے صرف پالیسی دستاویزات تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وسطی ایشیا میں نایاب معدنیات پر امریکی اور یورپی سرگرمیوں پر روس کو تشویش

اداکارہ مومنہ اقبال کے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے پر سنگین الزامات، مریم نواز سے ایکشن کا مطالبہ

کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرگئی، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

پاکستان نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

سلہٹ ٹیسٹ: بارش سے متاثرہ آخری روز پاکستان 121 رنز کے تعاقب میں

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا