آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے مہاجرین کی 12 نشستوں سمیت مجموعی طور پر 45 انتخابی حلقوں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات، الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستیں شائع کردیں
تمام 45 حلقوں کی حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد اگلے مرحلے میں انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا، اور آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات جولائی میں متوقع ہیں۔اس وقت آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے۔
مہاجرین کی 12 نشستیں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی آزاد کشمیر میں رجسٹریشن کی درخواست مسترد کردی گئی ہے، جس کے بعد امکان ہے کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیں گے۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے لیے 9 جون کو لانگ مارچ کی کال دے دی ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ میں صدر کشمیر کے انتخابی طریقہ کار کے خلاف آئینی رٹ دائر
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عام انتخابات سے قبل مہاجرین کی نشستوں سے متعلق فیصلہ ہونا ضروری ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے یا کمی کی مخالف ہے، اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کرے۔













