اے آئی پر بڑھتا انحصار انسانی ذہانت کے لیے خطرہ بننے لگا، برطانوی سائنسی ادارہ

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر بڑھتا ہوا انحصار انسانی ذہانت اور سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ہماری تحریر کا قدرتی اور منفرد انداز چھین تو نہیں رہی؟

سائنسی ادارے رائل آبزرویٹری گرین وچ کے مطابق فوری جوابات حاصل کرنے کی عادت انسانوں میں تجسس، تحقیق اور گہرے غور و فکر کی صلاحیت کو کمزور بنا سکتی ہے۔

برطانیہ کے قدیم ترین سائنسی اداروں میں شمار ہونے والے رائل آبزرویٹری گرین وچ کا کہنا ہے کہ پیچیدہ مسائل کے حل اور مشکل سوالات کے فوری جواب کے لیے اے آئی ٹولز پر حد سے زیادہ انحصار انسانوں کو کم ذہین بنا سکتا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر پیڈی راجرز نے کہا کہ اگر لوگ صرف فوری جوابات پر انحصار کریں گے تو سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور معلومات کو جانچنے کی وہ عادت ختم ہو سکتی ہے جو علم، مہارت اور ایجادات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟

انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رائل آبزرویٹری کا فرسٹ لائٹ منصوبہ 350 سالہ فلکیاتی تحقیق اور شوق کو جدید سائنسی دریافتوں سے جوڑنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

پیڈی راجرز کے مطابق ٹیکنالوجی نے سائنس میں بے شمار اہم کامیابیاں ممکن بنائی ہیں تاہم انسانی تجسس کا کوئی متبادل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی تجسس انسان کو نئے سوالات دریافت کرنے اور منفرد حل تلاش کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی کو جھانسا: آنکھوں کی ایک فرضی بیماری کو حقیقی سمجھ کر چیٹ بوٹس طبی مشورے دینا شروع

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اے آئی ٹولز پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی ذہانت کو متاثر کر سکتا ہے لیکن دوسری جانب مصنوعی ذہانت سائنسی رازوں سے پردہ اٹھانے اور تحقیق میں مدد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp