امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تحقیقاتی پروگرام سے وابستہ رہنے والے سائنسدان ڈاکٹر ہال پُتھوف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو تباہ شدہ یو ایف اوز سے کم از کم 4 مختلف اقسام کی خلائی مخلوقات ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
نیویارک پوسٹ کے مطابق 89 سالہ اسٹینفورڈ سے تربیت یافتہ طبیعیات دان نے یہ دعویٰ ڈیری آف اے سی ای او پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یو ایف اوز کی ریکوری میں شامل افراد کے مطابق مختلف قسم کی غیر انسانی مخلوقات کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر ہال پُتھوف ماضی میں سی آئی اے کے ایڈوانسڈ ایرو اسپیس ویپن سسٹم ایپلی کیشنز پروگرام سے وابستہ رہے تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی براہ راست سائنسی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا کہ انہوں نے خود کسی خلائی مخلوق کا حیاتیاتی مواد دیکھا ہے۔
ان کے یہ دعوے سابق امریکی فضائیہ انٹیلی جنس افسر ڈیوڈ گروش کے بیانات سے ملتے جلتے ہیں جنہوں نے سنہ 2023 میں امریکی کانگریس میں حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے پاس تباہ شدہ خلائی جہازوں سے حاصل کردہ غیر انسانی حیاتیاتی مواد موجود ہے۔
مزید پڑھیے: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
معروف یو ایف او محقق ڈاکٹر ایرک ڈیوس نے دعویٰ کیا کہ ان خلائی مخلوقات کی 4 اقسام ہیں جنہیں ’گریز‘، ’نورڈکس‘، ’انسیکٹوئیڈز‘ اور ’ریپٹیلینز‘ کہا جاتا ہے۔
ان کے مطابق نورڈکس انسانی قد و قامت جیسی مخلوق ہے جو شمالی یورپی افراد سے مشابہ دکھائی دیتی ہے جبکہ ریپٹیلینز کے جسم پر چھلکے، لمبی دم اور انسان جیسے بازو اور ٹانگیں ہوتی ہیں۔

اسی طرح ’گریز‘ چھوٹے قد، بغیر بالوں اور بڑی آنکھوں والی مخلوق بتائی جاتی ہے جیسی ہالی ووڈ فلموں میں دکھائی جاتی ہے۔
’انسیکٹوئیڈز‘ یا ’مینٹڈز‘ کو دعوے کے مطابق دعا مانگنے والے کیڑے ’پریئنگ مینٹس‘ جیسی شکل رکھنے والی مخلوق قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
رپورٹ کے مطابق یہ تمام دعوے زیادہ تر عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہیں اور اب تک ان کے حق میں کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیے: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
فلم ساز ڈین فراح جنہوں نے ڈاکٹر پُتھوف کا انٹرویو کیا کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد سچ سامنے لانے سے اس خوف کے باعث گریز کرتے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔














