NEW: Activists with the Boycott, Divestments and Sanctions (BDS) movement and No Harbour for Genocide (NHB) are raising the alarm over what they describe as a "flood" of military supplies from India to Israel, after six shipments of suspected military-grade steel were identified… pic.twitter.com/uGxnJX7r65
— Azad Essa (@azadessa) May 19, 2026
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل تک یہ سپلائیز پہنچنے سے روکی جائیں اور بھارتی حکومت سمیت متعلقہ کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
این ایچ بی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اسٹیل رامت ہشارون کے اسلحہ ساز پلانٹ بھیجا جا رہا تھا جہاں صرف فوجی پیداوار ہوتی ہے اور کوئی شہری مصنوعات تیار نہیں کی جاتیں۔
کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ اور لبنان کی جنگوں کے دوران خاص طور پر 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اسرائیل کے لیے بھارت کا کردار تیزی سے بڑھا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کے اسرائیل سے تعلقات پر عالمی قانونی سوالات اٹھ گئے
انہوں نے شپنگ کمپنیوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ نگرانی سے بچنے کے لیے راستوں اور منزلوں کو خفیہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپین کی جانب سے ایک بحری جہاز کو لنگر انداز ہونے سے روکنے، یونانی ڈاک ورکرز کے سامان اتارنے سے انکار اور بعد ازاں اطالوی حکام کی جانب سے شپمنٹس روکنے جیسے اقدامات کے بعد یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا۔
6 فروری کو اٹلی، یونان، باسک خطے، مراکش اور ترکیہ سمیت 20 سے زائد بندرگاہوں کے ڈاک ورکرز نے ’ڈاک ورکرز جنگ کے لیے کام نہیں کرتے‘ کے عنوان سے مشترکہ احتجاج کیا تھا جس کا مقصد اسلحہ کی ترسیل روکنا اور شہری بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے بچانا تھا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ مودی کی کھلی صف بندی: بھارت خلیج اور ایران کے ساتھ توازن کھو رہا ہے؟
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد یورپ بھر میں عدالتی فیصلوں، قومی پابندیوں، مزدور احتجاجوں اور ریل بلاکیڈز کے ذریعے اسرائیلی فوجی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس کے باوجود متعدد یورپی ممالک اب بھی اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی میں معاون سمجھے جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں جرمنی نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے لیے 78 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحہ برآمدات کی منظوری دی، جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی فوجی اڈوں کے ذریعے جرمنی سے درجنوں کارگو طیاروں کے ذریعے گولہ بارود بھی منتقل کیا گیا۔














