ملک کے معاشی دارالحکومت کراچی میں سیاسی سرگرمیاں اچانک تیز ہو گئی ہیں جہاں پاکستان تحریک انصاف کے سابق اراکین اور اہم رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مولانا راشد محمود کی رہائش گاہ پر ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا حکومت کے خلاف علم بغاوت، آئندہ جمعے کو احتجاجی مظاہروں کا اعلان
مذکورہ ملاقات مولانا فضل الرحمان کے موجودہ دورہ کراچی کے دوران ہوئی جسے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ملاقات کا ایجنڈا اور بنیادی مقصد
ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال تھا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ دراصل ’نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی‘ کا اجلاس تھا جس کا اہم مقصد پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا صوبہ سندھ کی سیاست سے براہ راست تعلق نہیں تھا اور اجلاس میں زیادہ تر پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما شریک ہوئے۔ ملاقات کے دوران ملک میں اپوزیشن کو مزید فعال کرنے اور سیاسی ماحول میں تناؤ کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کے ساتھ مستقبل میں سیاسی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور باہمی مفاہمت کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ آئندہ کے سیاسی منظرنامے میں ایک دوسرے کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کے امور بھی زیر غور آئے۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان کی شاہد آفریدی کی رہائشگاہ آمد، فلاحی کاموں پر سابق کپتان کی تعریف
ملاقات میں سینیئر سیاستدان محمود مولوی، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، فواد چودھری، سینیٹر شہزاد وسیم، عامر کیانی، عباس جعفری اور بیرسٹر محمد علی سیف شریک ہوئے۔
اس موقعے پر جے یو آئی کے اسلم غوری، علامہ راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، مولانا سمیع الحق سواتی و دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی، معاشی بدحالی اور عام آدمی پر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
وفد نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ حالات میں عوام بدترین معاشی دباؤ، بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وفد نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک متحد پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کریں تاکہ ملک میں ایک مضبوط، ذمہ دار اور مؤثر اپوزیشن سامنے آ سکے۔
صوبائی قیادت کا مؤقف
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے مطابق کراچی کے عوام اب سیاسی طور پر باشعور ہو چکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ کون نظریے کے ساتھ کھڑا ہے اور کون نئی سیاسی پناہ گاہیں تلاش کر رہا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ سابق اراکین کی جانب سے اس نوعیت کی ملاقاتیں دراصل اپنی سیاسی بقا کی کوشش ہیں۔












