امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے خلیجی رہنماؤں کی درخواست پر ایران پر منگل سے شروع ہونے والا حملہ مؤخر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، انہیں جلد پتا چل جائےگا کہ کیا ہونے والا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سوشل ٹروتھ پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی حملے کو فی الحال روک دیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ درخواست اس وجہ سے کی گئی ہے کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ان رہنماؤں کی رائے میں ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لیے قابل قبول ہوگا۔
"Serious negotiations are now taking place, and that, in their opinion, as Great Leaders and Allies, a Deal will be made, which will be very acceptable to the United States of America, as well as all Countries in the Middle East, and beyond… we will NOT be doing the scheduled… pic.twitter.com/cxBBaNUB6E
— The White House (@WhiteHouse) May 18, 2026
انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں اہم شرط یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
مزید پڑھیے: ایران سرنڈ کرکے سفید جھنڈا بھی لہرا دے تو کچھ عناصر اسے تہران کی فتح قرار دیں گے، ٹرمپ کی میڈیا پر تنقید
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینئل کین اور امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران پر کل ہونے والا حملہ فی الحال منسوخ کر دیا جائے۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکا فوری طور پر بڑے پیمانے پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے تیار رہے گا۔













