امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے جنگ بندی اس لیے منظور کی کیونکہ دیگر ممالک خصوصاً پاکستان نے اس کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا چین کا دورہ بغیر کسی بڑی تجارتی ڈیل کے اختتام پذیر، امریکا روانگی
صدر ٹرمپ نے چین سے واپسی کے دوران ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں حقیقت میں اس کے حق میں نہیں تھا لیکن ہم نے یہ پاکستان کے فائدے کے لیے کیا۔
انہوں نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ پاکستان کے لیے کیا وہ شاندار لوگ ہیں، فیلڈ مارشل، وزیر اعظم۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران میں مکمل فوجی فتح حاصل کی ہے۔
انہوں نے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے ان کا پورا بحری بیڑہ ختم کر دیا، ان کی فضائیہ ختم کر دی، دوسری ڈویژن کے رہنماؤں کو ختم کر دیا اور تیسری سطح کے رہنماؤں کو بھی ختم کر دیا۔
مزید پڑھیے: شی جن پنگ نے بائیڈن دور کو امریکی زوال قرار دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
جب انہیں پوچھا گیا کہ آیا لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے تو ٹرمپ نے کہا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت اور موجودہ تنازعے کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔
پاکستان نے 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کرائی جس سے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ رک گئی۔
.@POTUS gives his signature fist pump and one final wave as he boards Air Force One following his historic state visit to China https://t.co/sWRnNmzLZM pic.twitter.com/HGXravRpMA
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 15, 2026
11 اپریل کو پاکستان نے اسلام آباد میں براہ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی۔ یہ مذاکرات حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے لیکن واشنگٹن اور تہران کے درمیان مستقل حل کے لیے مزید بات چیت کا راستہ ہموار کیا۔
مزید پڑھیں: چین نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر کارروائی کی۔ اس تصادم کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے گرد سمندری ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔
’چینی صدر چاہتے ہیں ایران آبنائے ہرمز کھولے‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان چینی کمپنیوں پر پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہے ہیں جو ایرانی تیل خریدتی ہیں اور جلد اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کے خیال سے ’متفق‘ ہیں بشرطیکہ تہران کی جانب سے حقیقی وعدہ ہو۔
چین سے روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے شی کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے کیے جو دونوں ممالک کے لیے مفید ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے آبنائے ہرمز کھلا رکھنے میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ بیجنگ گئے تاکہ زراعت، ہوا بازی اور مصنوعی ذہانت میں معاہدے کریں اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات خصوصاً خاص طور پر ایران کے مسئلے پر کشیدگی کو بھی کنٹرول کریں۔
امریکا مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے، ایران
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت کو امریکا کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو ختم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر راضی ہے۔
عراقچی نے دہلی میں صحافیوں سے کہا کہ ہمیں دوبارہ امریکی پیغامات ملے ہیں کہ وہ مذاکرات جاری رکھنے اور بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران جنگ کا حل صرف مذاکرات میں موجود ہے اور ایسے عناصر ہیں جو سفارتکاری میں خلل ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین نے ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں
عراقچی نے امید ظاہر کی کہ عقل اور سفارتکاری غالب آئے گی اور ہم مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرلیں گے۔














