امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر میں پیر کے روز ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 2 مشتبہ حملہ آور بھی مارے گئے۔
حکام اس واقعے کو ابتدائی طور پر نفرت انگیز جرم قرار دے کر تحقیقات کر رہے ہیں۔
سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کلیئرمونٹ کے علاقے میں واقع اسلامک سینٹر سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہونے پر پولیس نے کارروائی کی، جہاں مرکز کے باہر 3 افراد کی لاشیں ملیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں جنونی شخص کی فائرنگ، ایک ہی خاندان کے 8 بچے ہلاک
مسجد کے ڈائریکٹر امام طحہٰ حسن کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک سیکیورٹی گارڈ اور اسلامی اسکول کے 2 عملے کے ارکان شامل ہیں، پولیس نے تاحال مقتولین کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
پولیس چیف کے مطابق 2 مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں 17 اور 19 برس بتائی گئی ہیں، قریب ہی کھڑی ایک گاڑی کے اندر مردہ پائے گئے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔
Three adult men, one of whom was a security guard, were killed in a shooting at the Islamic Center of San Diego on Monday, local police said.
Two suspects are also dead, police said. All children who were at the center are safe.https://t.co/L70fOeVDiN pic.twitter.com/LZbZMrXZkN
— ABC News (@ABC) May 18, 2026
حکام نے بتایا کہ ایک مشتبہ شخص نے ایک مالی پر بھی فائرنگ کی، تاہم وہ محفوظ رہا۔
اسکاٹ واہل نے کہا کہ اسلامک سینٹر کو نشانہ بنائے جانے کے باعث ہم اس واقعے کو اس وقت تک ہیٹ کرائم تصور کر رہے ہیں جب تک اس کے برعکس شواہد سامنے نہ آئیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک خاتون نے اپنے کم عمر بیٹے کے گھر سے فرار ہونے کی اطلاع دی تھی۔

خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کا بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار اور خودکشی کے رجحانات رکھتا تھا جبکہ گھر سے متعدد آتشیں اسلحہ بھی غائب تھا۔
خاتون نے یہ بھی بتایا کہ نوجوان کے ساتھ ایک اور شخص موجود تھا جو فوجی طرز کے لباس میں ملبوس تھا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک نوٹ بھی ملا جو مبینہ طور پر نوجوان نے چھوڑا تھا، تاہم حکام نے اس کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا: ڈلاس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ پر فائرنگ، 2 افراد ہلاک
ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک ہتھیار پر ‘ہیٹ اسپیچ’ کے الفاظ درج تھے۔
واقعے کے بعد قریبی اسپتال شارپ میموریل ہاسپٹل نے ایمرجنسی اقدامات نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج کی تصدیق کی۔
‘امام طحہٰ حسن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسی المناک صورتحال کا سامنا نہیں کیا۔ ‘ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور دعا گو ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے شہر منیپولس میں کیتھولک اسکول میں فائرنگ،3 بچے جان سے گئے، متعدد زخمی
انہوں نے عبادت گاہ کو نشانہ بنائے جانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی تمام عبادت گاہوں کو محفوظ ہونا چاہیے۔
واقعے کی تحقیقات میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن بھی مقامی پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے، انہوں نے اس حملے کو انتہائی افسوسناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔













