دنیا بھر میں ہر سال اربوں پرندے موسم، خوراک اور افزائش نسل کی ضرورت کے تحت ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں۔ یہ ہجرتی پرندے بظاہر خاموشی سے آسمانوں میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں انہیں اپنے سفر کے دوران بے شمار خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ہجرتی پرندوں کے تحفظ کی کوششیں

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، قدرتی مساکن کا خاتمہ اور شہروں میں شیشے سے بنی بلند عمارتیں ان پرندوں کے لیے سب سے بڑے خطرات بن چکی ہیں۔
ہجرت کے دوران بہت سے پرندے رات کے وقت سفر کرتے ہیں اور شہری علاقوں کی تیز روشنیاں انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں، جس کے باعث وہ عمارتوں اور کھڑکیوں سے ٹکرا کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

امریکی شہر نیویارک میں جنگلی پرندوں کے تحفظ کے ادارے سے وابستہ ماہرین کے مطابق صرف ایک رات میں لاکھوں پرندے کسی بڑے شہر کے اوپر سے گزر سکتے ہیں، لیکن چونکہ ان کا سفر زیادہ تر اندھیرے میں ہوتا ہے اس لیے عام لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی ماحول میں تبدیلی بھی پرندوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ کئی پرندے نسل در نسل مخصوص مقامات پر خوراک اور آرام کے لیے پہنچتے ہیں، لیکن جب وہاں جنگلات ختم ہو جائیں یا تعمیرات ہو جائیں تو ان کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

گھروں اور عمارتوں کی شیشے والی کھڑکیاں بھی پرندوں کے لیے خاموش قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ پرندے شیشے میں درختوں یا آسمان کا عکس دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں اور تیزی سے ٹکرا جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:جہانگیر نگر یونیورسٹی میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی آمد میں تیزی سے کمی
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ رات کے وقت غیر ضروری روشنیاں بند رکھی جائیں، گھروں اور باغات میں مقامی پودے لگائے جائیں اور قدرتی ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق معمولی اقدامات بھی لاکھوں ہجرتی پرندوں کی جان بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔












