ریاض میں ’عالمی ہجرتی پرندوں کا دن‘ منایا گیا جس کا مقصد ہجرت کرنے والے پرندوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ سعودی عرب اس حوالے سے ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ افریقی یوریشیائی پرندوں کے بڑے ہجرتی راستے پر واقع ہے۔
مزید پڑھیں: بحالی کے بعد 63 سمندری پرندے جدہ کے ساحل پر آزاد
سعودی عرب کا ’امام ترکی بن عبداللہ شاہی ریزرو‘ اس نظام کا اہم حصہ ہے، جو قریباً 91 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں 184 اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں اور یہ جگہ ہجرتی پرندوں کے لیے اہم آرام گاہ کے طور پر کام کرتی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ویژن 2030 کے تحت ماحولیات کے تحفظ کو قومی ترجیح دی گئی ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے افزائش نسل اور دوبارہ جنگل میں چھوڑنے کے منصوبے بھی جاری ہیں، جن میں نایاب پرندے شامل ہیں۔
قدرتی آبی ذرائع، محفوظ پودے اور شکار پر پابندی جیسے اقدامات ہجرتی پرندوں کی بقا میں مدد دیتے ہیں۔ نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرون اور تھرمل کیمرے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:لاہور چڑیا گھر میں 5 برس کے دوران 70 قیمتی جانور اور پرندے ہلاک ہونے کا انکشاف
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں ملک کے 30 فیصد زمینی اور سمندری علاقوں کو محفوظ بنانے کا ہدف ہے تاکہ سعودی عرب ہجرتی پرندوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن سکے۔














