زمین پر نظر آنے والا فطرت کا سب سے شاندار اور جادوئی منظر یعنی ‘مکمل سورج گرہن’ اب ایک طے شدہ ایکسپائری تاریخ رکھتا ہے۔ کائناتی امور پر نظر رکھنے والے سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ ہمارا چاند زمین سے سالانہ 3.8 سینٹی میٹر کی رفتار سے دور جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی سیٹلائٹس نے مصنوعی سورج گرہن پیدا کرکے تاریخ رقم کردی
چاند کے مدار میں آنے والی اس مسلسل وسعت کا مطلب یہ ہے کہ زمین کے آسمان پر چاند کا حجم آہستہ آہستہ چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ کائنات کے اس پھیلاؤ کے نتیجے میں موجودہ دور کے انسانوں کو مسحور کرنے والا مکمل سورج گرہن کا یہ خوبصورت نظارہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج اور چاند کا زمین سے فاصلہ اور ان کا حجم کا یہ موجودہ ملاپ محض ایک عارضی کائناتی خوش قسمتی ہے۔ اگرچہ ہماری زندگیوں میں یہ ڈرامائی نظارے برقرار رہیں گے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مکمل سورج گرہن کی تعداد اور فریکوئنسی کم ہوتی جائے گی۔
سائنسی حساب کتاب کے مطابق اب سے ٹھیک 60 کروڑ سال بعد زمین پر آخری بار مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا۔ اس کے بعد چاند زمین سے اتنا دور ہو چکا ہوگا کہ وہ سورج کے سامنے آنے کے باوجود اس کی روشنی کو مکمل طور پر نہیں چھپا پائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپر بلڈ مون: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن
چاند کے اس سست رفتار فرار کے بعد آنے والی صدیوں میں مستقبل کی نسلیں صرف ‘رنگ آف فائر’ (حلقہ نما سورج گرہن) ہی دیکھ سکیں گی۔ اس گرہن میں چاند سورج کے صرف درمیانی حصے کو ڈھانپ پاتا ہے اور سورج کا بیرونی چمکدار کنارہ ایک آگ کی انگوٹھی کی طرح نظر آتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کائنات کا یہ بدلتا ہوا نظام بنی نوع انسان کے لیے ایک واشگاف یاددہانی ہے کہ وہ اس خوبصورت کائناتی منظر کی قدر کریں جب تک یہ قائم ہے۔














