جاپان اس وقت شدید موسمی الرجی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کی بڑی وجہ سنہ 1950 کی دہائی میں کیا گیا ایک فیصلہ بتایا جا رہا ہے جب جنگ کے بعد ملک بھر میں جنگلات کو دوبارہ اگانے کے لیے بڑے پیمانے پر مخصوص اقسام کے درخت لگائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پولن اور موسمی الرجی سے نمٹنے کے مؤثر طریقے
بی بی سی کے مطابق ابتدائی ویڈیوز میں جاپان کے جنگلات سے اٹھنے والے دھوئیں جیسے مناظر وائرل ہوئے جو دراصل دھواں نہیں بلکہ پولن تھا۔ یہ پولن ہر بہار میں ہوا کے ساتھ شہروں تک پہنچ کر لاکھوں افراد میں الرجی کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں تقریباً 43 فیصد آبادی مختلف درجے کی الرجی کا شکار ہے جو برطانیہ اور امریکا کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس بیماری کے باعث لوگوں کو نیند کی کمی، کمزور توجہ اور دمہ جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
معاشی طور پر بھی اس کا بڑا اثر ہے اور اندازوں کے مطابق اس سے روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
مسئلہ کیسے شروع ہوا؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں ایندھن کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر جنگلات کاٹ دیے گئے۔ بعد میں حکومت نے زمین کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے تیزی سے شجرکاری شروع کی لیکن زیادہ تر صرف 2 اقسام کے درخت لگائے گئے ایک جاپانی سیڈر اور دوسرے جاپانی سائپرس۔
مزید پڑھیے: درختوں سے پولن الرجی اسلام آباد کے شہریوں کو کیسے متاثر کررہی ہے؟
یہ درخت تیزی سے بڑھتے ہیں لیکن بہت زیادہ پولن پیدا کرتے ہیں۔ آج یہ درخت جاپان کے تقریباً 20 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ درخت بالغ ہو کر زیادہ پولن چھوڑنے لگے، جس سے الرجی کا مسئلہ سنگین ہو گیا۔
قومی سطح کا مسئلہ
حکومت نے سنہ 2023 میں اس صورتحال کو قومی سماجی مسئلہ قرار دیا اور ایک منصوبہ بنایا کہ 30 سال میں پولن کو 50 فیصد تک کم کیا جائے گا۔
اس کے لیے پرانے سیڈر درختوں کے جنگلات میں کمی اور ان کی جگہ کم پولن والے یا قدرتی جنگلات لگانے کا منصوبہ ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ماحولیاتی اور معاشی بحران بھی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
مونوکلچر (ایک ہی قسم کے درختوں) کے جنگلات حیاتیاتی تنوع کو کم کرتے ہیں۔
قدرتی جنگلات کے مقابلے میں یہ جانوروں اور کیڑوں کو کم سہارا دیتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پولن کا پھیلاؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
حل کی کوششیں
جاپان مختلف طریقوں سے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں پرانے جنگلات کو کاٹ کر دوبارہ قدرتی جنگلات لگانا، کم پولن والے درخت تیار کرنا، پولن کی پیشگوئی کے نظام اور ٹیکنالوجی کا استعمال اور نئی ادویات اور علاج کی تیاری شامل ہے۔
کچھ شہروں جیسے کوبے میں پرانے جنگلات کو بتدریج قدرتی جنگلات میں بدلا جا رہا ہے جس سے جنگلی حیات بھی واپس آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد سے پولن کے خاتمے کے لیے سی ڈی اے کا اہم فیصلہ
الغرض یہ اقدامات جاری تو ہیں لیکن ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں کیونکہ جاپان کے بڑے حصے پر اب بھی یہی پولن پیدا کرنے والے درخت موجود ہیں۔













