سنہ 1950 کی دہائی کا فیصلہ جاپان میں بڑے پیمانے پر الرجی کا سبب، چھٹکارا پانے کے لیے کئی دہائیاں درکار

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان اس وقت شدید موسمی الرجی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کی بڑی وجہ سنہ 1950 کی دہائی میں کیا گیا ایک فیصلہ بتایا جا رہا ہے جب جنگ کے بعد ملک بھر میں جنگلات کو دوبارہ اگانے کے لیے بڑے پیمانے پر مخصوص اقسام کے درخت لگائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پولن اور موسمی الرجی سے نمٹنے کے مؤثر طریقے

بی بی سی کے مطابق ابتدائی ویڈیوز میں جاپان کے جنگلات سے اٹھنے والے دھوئیں جیسے مناظر وائرل ہوئے جو دراصل دھواں نہیں بلکہ پولن تھا۔ یہ پولن ہر بہار میں ہوا کے ساتھ شہروں تک پہنچ کر لاکھوں افراد میں الرجی کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاپان میں تقریباً 43 فیصد آبادی مختلف درجے کی الرجی کا شکار ہے جو برطانیہ اور امریکا کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس بیماری کے باعث لوگوں کو نیند کی کمی، کمزور توجہ اور دمہ جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

معاشی طور پر بھی اس کا بڑا اثر ہے اور اندازوں کے مطابق اس سے روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

مسئلہ کیسے شروع ہوا؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں ایندھن کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر جنگلات کاٹ دیے گئے۔ بعد میں حکومت نے زمین کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے تیزی سے شجرکاری شروع کی لیکن زیادہ تر صرف 2 اقسام کے درخت لگائے گئے ایک جاپانی سیڈر اور دوسرے جاپانی سائپرس۔

 مزید پڑھیے: درختوں سے پولن الرجی اسلام آباد کے شہریوں کو کیسے متاثر کررہی ہے؟

یہ درخت تیزی سے بڑھتے ہیں لیکن بہت زیادہ پولن پیدا کرتے ہیں۔ آج یہ درخت جاپان کے تقریباً 20 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ درخت بالغ ہو کر زیادہ پولن چھوڑنے لگے، جس سے الرجی کا مسئلہ سنگین ہو گیا۔

قومی سطح کا مسئلہ

حکومت نے سنہ 2023 میں اس صورتحال کو قومی سماجی مسئلہ قرار دیا اور ایک منصوبہ بنایا کہ 30 سال میں پولن کو 50 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

اس کے لیے پرانے سیڈر درختوں کے جنگلات میں کمی اور ان کی جگہ کم پولن والے یا قدرتی جنگلات لگانے کا منصوبہ ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ماحولیاتی اور معاشی بحران بھی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟

مونوکلچر (ایک ہی قسم کے درختوں) کے جنگلات حیاتیاتی تنوع کو کم کرتے ہیں۔

قدرتی جنگلات کے مقابلے میں یہ جانوروں اور کیڑوں کو کم سہارا دیتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پولن کا پھیلاؤ مزید بڑھ رہا ہے۔

حل کی کوششیں

جاپان مختلف طریقوں سے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں پرانے جنگلات کو کاٹ کر دوبارہ قدرتی جنگلات لگانا، کم پولن والے درخت تیار کرنا، پولن کی پیشگوئی کے نظام اور ٹیکنالوجی کا استعمال اور نئی ادویات اور علاج کی تیاری شامل ہے۔

کچھ شہروں جیسے کوبے میں پرانے جنگلات کو بتدریج قدرتی جنگلات میں بدلا جا رہا ہے جس سے جنگلی حیات بھی واپس آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد سے پولن کے خاتمے کے لیے سی ڈی اے کا اہم فیصلہ

الغرض یہ اقدامات جاری تو ہیں لیکن ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں کیونکہ جاپان کے بڑے حصے پر اب بھی یہی پولن پیدا کرنے والے درخت موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ