امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق ایک اہم قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
یہ اقدام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 روز بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ پر امریکا کے 29 ارب ڈالر خرچ، ٹرمپ کے بیانات سے نئی بحث چھڑ گئی
قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے، 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔
اس پیشرفت کو ان قانون سازوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ چھیڑنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے۔
The result was a victory for lawmakers who have been arguing that Congress, not the president, should have the power to send troops to war, as spelled out in the Constitution.https://t.co/wvGgwYEDP2
— Gary Buckley™ (@myrddenbuckley) May 19, 2026
اگرچہ یہ صرف ابتدائی منظوری ہے، تاہم قرارداد کو مکمل قانون بننے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے 2 تہائی اکثریت بھی ضروری ہوگی۔
مزید پڑھیں: جنگ کے خاتمے سے زیادہ اہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، امریکی شہریوں کا ٹرمپ کو مشورہ
قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کانگریس کے سامنے رکھیں۔
ان کے مطابق صدر کو ایران کی جانب سے امن تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں قانون سازوں سے شیئر نہیں کر رہے۔
پینسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چند ری پبلیکن ارکان نے اس کی حمایت کی۔
مزید پڑھیں: ایران کی نئی پیشکش سے ٹرمپ ناخوش، جنگ کے خاتمے کی امیدیں مدھم پڑگئیں
1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، کیونکہ امریکی آئین جنگ کا اختیار صرف کانگریس کو دیتا ہے۔













