پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ دونوں ممالک علاقائی امن، عالمی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران مثبت اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے۔
Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar welcomed a Chinese delegation led by the Vice Chairman of the National People’s Congress to the Senate, reaffirming the enduring Pakistan-China friendship and commitment to deepening bilateral cooperation.@MIshaqDar50… pic.twitter.com/lDekWRsVd7
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 20, 2026
اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ وہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر 31 مارچ کو ایک روزہ دورے پر بیجنگ گئے، جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کے بعد 5 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا، جسے دنیا کے درجنوں ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور عالمی امن کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے بقول سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زراعت، آئی ٹی اور سماجی و اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ اس کے ثمرات ہر پاکستانی شہری تک پہنچ سکیں۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک کا تصور 2013 کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا، جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف، وہ خود اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف چین گئے اور توانائی بحران و لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے چینی قیادت سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے غیر معمولی تعاون فراہم کیا جس پر پاکستانی قوم ہمیشہ چین کی شکر گزار رہے گی۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔
پاک چین دوستی کے 75 برس، قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد منظور
قومی اسمبلیِ پاکستان نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر متفقہ قرارداد منظور کرلی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی، اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک چین دوستی کی 75 سالہ تقریب، وفاقی وزرا کا لازوال تعلقات کے عزم کا اعادہ
قرارداد میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاک چین تعلقات کو خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ ایوان نے ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ سے مکمل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
My speech today at the Institute of Strategic Studies, Islamabad, on the 75th anniversary of the establishment of diplomatic relations between Pakistan and China. pic.twitter.com/0CzUTxoIEp
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) May 19, 2026
قومی اسمبلی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا اور اس کے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل قانون ساز حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک چین 75 سالہ دوستی پر خصوصی پشتو نغمہ 20 مئی کو ریلیز ہوگا
قرارداد میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین مسٹر کائی دافنگ اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور یکجہتی کا مظہر ہے۔
ایوان نے پارلیمانی سفارت کاری اور قانون سازی کے میدان میں تعاون کو پاک چین تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

قومی اسمبلی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ 75 برسوں میں پاکستان اور چین کے تعلقات مزید مضبوط، متحرک اور باہمی مفاد پر مبنی ہوں گے، جو دونوں ممالک کے عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ خواہشات کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔














