سائنسدانوں نے حیران کن کامیابی حاصل کرلی، مصنوعی انڈوں سے چوزوں کی پیدائش

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں نے حیاتیاتی علوم میں ایک اہم اور حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے منصنوعی انڈوں سے 26 صحت مند چوزے نکال لیے ہیں۔

ماہرین اس پیشرفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جو سائنس کو ایسے مصنوعی رحم کی تیاری کے مزید قریب لے جا سکتی ہے جہاں بچوں کی پرورش اور پیدائش ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: آپ جو انڈہ کھا رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نقلی؟ فیکٹری میں بنے جعلی انڈوں کی ویڈیو وائرل

تجربہ کیسے کیا گیا؟

یہ تجربہ امریکی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کولوسل بائیوسائنسز نے انجام دیا، جس میں سائنس دانوں نے شفاف تھری ڈی پرنٹڈ ’مصنوعی انڈے‘ تیار کیے۔ ان انڈوں کو قدرتی خول کے بغیر پرندوں کے جنین کی افزائش کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

ان مصنوعی انڈوں کے اندر خصوصی سلیکون جھلی لگائی گئی تھی، جو آکسیجن سمیت گیسوں کے قدرتی تبادلے کو ممکن بناتی ہے، جبکہ قدرتی کیلشیئم کی کمی پوری کرنے کے لیے محققین نے پیسا ہوا کیلشیئم استعمال کیا۔

نایاب پرندوں کو بچانے کی کوشش

اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ان پرندوں کی نسلوں کو محفوظ بنانا ہے جو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ماہرین اس منصوبے کے ذریعے نیوزی لینڈ کے دیوہیکل اور اڑان سے محروم پرندے ’موآ‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ یہ پرندہ قریباً 12 فٹ بلند تھا اور چار لیٹر حجم کے انڈے دیتا تھا۔

معدوم جانوروں کی واپسی کے منصوبے

کولوسل بائیوسائنسز اس سے قبل بھی معدوم جانوروں کو دوبارہ زندہ کرنے کے مختلف منصوبوں پر کام کر چکی ہے۔ کمپنی نے ماضی میں معدوم ’ڈائر وولف‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی ماہ سائنسدانوں نے 200 سال قبل معدوم ہونے والے ’بلیو بک ہرن‘ کو واپس لانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جبکہ کمپنی اون دار میمتھ اور ڈوڈو پرندے کی واپسی پر بھی کام کررہی ہے۔

کمپنی کے چیف بائیولوجی افسر اینڈریو پاسک نے اس کامیابی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مصنوعی انڈوں میں چوزوں کو حرکت کرتے دیکھنا ناقابل یقین تھا اور اس سے محسوس ہوتا ہے کہ رحم کے باہر بھی زندگی کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی حیاتیاتی تحقیق میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اب پورے پرندے کو انڈے کے قدرتی خول کے بغیر انکیوبیٹر میں پروان چڑھانا ممکن ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی ’بٹر فلائی لیڈی‘: شرین عبداللہ کی تتلیوں کو بچانے کے لیے 2 دہائیوں پر محیط جنگ

سائنسی حلقوں میں تنقید

تاہم سائنسی برادری کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کو حد سے زیادہ غیرمعمولی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

1998 سے بغیر خول والے انڈوں پر تحقیق کرنے والے بعض محققین کے مطابق یہ طریقہ مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ پہلے سے موجود تکنیک میں ایک نئی بہتری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کی مؤثر تفتیش، 2 اہم قتل کیسز میں ملزمان کو سزائے موت

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

تیستا ندی منصوبے کے لیے بنگلہ دیش کا چین سے رابطہ، پانی کا تنازع اب بھارت کے لیے بڑا سیکیورٹی چیلنج بن گیا

حجاج کی سہولت کے لیے جدید روڈ کولنگ منصوبہ، سفر مزید آرام دہ بنانے لیے مثالی اقدامات

’تھری ایڈیٹس‘ سے ’نن بن‘ تک، وجے کی یادگار اداکاری دوبارہ توجہ کا مرکز

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا