اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت سنا دی گئی

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سینیٹ کے ملازم حمزہ خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت مکمل ہونے پر یہ حکم جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: باپ کے قتل میں ملوث مجرم کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کر دی

عدالت نے اپنے فیصلے میں مجرم عارف حسین شاہ پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر دو شریک مجرمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے اور ان دونوں کو 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سابق ایس پی عارف حسین شاہ نے سینیٹ کے ملازم حمزہ خان کو اغوا کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ مقتول کی لاش بعد میں مجرم عارف شاہ کے آبائی علاقے مانسہرہ میں واقع گھر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: صولت مرزا نے کبھی اعترافِ جرم نہیں کیا تھا، سزا سنانے والے جج نے مزید کیا انکشافات کیے؟

سینیٹ کے 30 سالہ ملازم حمزہ خان کے اغوا اور قتل کا یہ لرزہ خیز واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا تھا۔ مقتول کا تعلق بنیادی طور پر نتھیا گلی سے تھا لیکن وہ اسلام آباد میں مقیم تھے، جہاں وہ 15 مارچ 2025 کو سابق ایس پی عارف حسین شاہ کے آبائی گاؤں کھاکی (مانسہرہ) جانے کے بعد اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔

تحقیقات کے مطابق حمزہ خان کو تقریباً 80 لاکھ روپے کے ایک دیرینہ مالی تنازع کے حل کے بہانے مانسہرہ بلایا گیا تھا۔ وہاں پہنچنے پر سابق پولیس افسر عارف حسین شاہ، ان کے بیٹے واصف شاہ اور دیگر شریک ملزمان نے انہیں بے دردی سے قتل کر کے لاش کو ایک پہاڑی علاقے میں خفیہ طور پر دفن کردیا تھا۔

ملزمان نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے حمزہ خان کے موبائل فونز اسلام آباد کے جی-ٹین (G-10) میٹرو اسٹیشن کے قریب پھینک دیے تھے، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ واپس وفاقی دارالحکومت پہنچ چکے تھے۔ تاہم اسلام آباد پولیس نے سراغ رساں کتوں اور جدید فرانزک تکنیک کی مدد سے تفتیش کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا، جن کے اعترافِ جرم پر لاش برآمد ہوئی۔

رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ سابق ایس پی عارف حسین شاہ اپنے سروس کے دور میں، جب وہ ایس پی ٹریفک تعینات تھے، مانسہرہ کی ہی ایک خاتون پولیس اہلکار کے قتل کے کیس میں بھی نامزد ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں پولیس سروس سے قبل از وقت جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا، لیکن وہ اس کے بعد بھی مبینہ طور پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔

 پولیس نے طویل تفتیش اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں اب انہیں کڑی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک چین دوستی کے 75 سال: پاکستان 75 روپے کا خصوصی سکہ جاری کرے گا

بنگلہ دیش میں خسرہ کی ویکسین کی قلت، یونیسیف کے انتباہ کو نگران حکومت نے نظرانداز کیا

اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا شاہ رحیم آغا خان پہلے دورے پر پاکستان پہنچ گئے، کہاں کہاں جائیں گے؟

اٹلی نے اسرائیلی رویے کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا، صمود فلوٹیلا کے گرفتار رضاکاروں کے ساتھ برتاؤ پر معافی کا مطالبہ

ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو پھر وارننگ

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا